حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 215
حیات احمد ۲۱۵ جلد اول حصہ دوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود بیان فرمائی۔حضرت صاحبزادہ صاحب کو بحالی صحت کے لئے شکار بندوق کا مشورہ دیا گیا اور بعض اور اسباب بھی تھے جن کے لئے آپ نے ہوائی بندوق اولاً منگوائی تو حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ پنجابی میں ایک ضرب المثل ہے۔باپ نہ ماری پدری بیٹا میر شکار۔مگر آپ کو کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کیونکہ ہم نے ایک مرتبہ شکار کے لئے بندوق چلائی تو ایک پڑی شکار ہوگئی۔ہر چند یہ آپ کا ایک پاک مزاح یا لطیفہ کہلا سکتا ہے مگر اس واقعہ کے لحاظ سے اتنا کہا جا سکتا ہے کہ ایک آدھ مرتبہ اگر آپ نے شکار کا شوق کیا ہو تو تعجب نہیں۔عام طور پر آپ کو کوئی شوق اور دلچسپی نہ تھی۔ہاں طیور کے گوشت کو پسند فرماتے تھے۔اور دراصل حضرت صاحبزادگان میں شکار کا شوق بھی حضرت مسیح موعود کی اس خواہش کے پورا کرنے کے لئے آیا۔جو حضرت والد صاحب قبلہ کی خوشنودی اور دعا کے حاصل کرنے کا ایک ذریعہ تھا۔اُن ایام میں حضرت مسیح موعود کی غذا بالکل کم ہو گئی تھی اور کوئی چیز نہیں کھاتے تھے۔پرند کا شور با آپ پسند کرتے تھے اس لئے عام طور پر خدام کوشش کرتے تھے کہ کوئی پرند کا شکار کر کے لائیں اسی سلسلے میں حضرت صاحبزادہ صاحب بھی سعی کرتے۔غرض آپ کو کوئی دلچسپی اس سے نہ تھی۔اور نہ دوسرے تفریحی مشاغل نے کبھی آپ کی توجہ کو اپنی طرف کھینچا۔شطرنج چوسر وغیرہ کھیلیں بھی اُس زمانے میں عام تھیں مگر آپ کو ان سے نفرت اور بیزاری تھی۔استغراقی حالت اللہ تعالیٰ کی محبت اور اتباع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں کچھ ایسے محو اور متوجہ رہتے تھے کہ پاس ہونے والے واقعات کا بھی علم نہیں ہوتا تھا۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر وقت رو بخدا ر ہتے اور باوجود دنیا میں ہونے کے دنیا سے الگ رہتے۔یہ حالت بھی آغاز نو جوانی ہی سے پیدا ہو گئی تھی۔بھوری پیٹھ کی چھوٹی سی خوش آواز چڑیا جو کئی قسم کی ہوتی ہے ( اردو لغت تاریخی اصولوں پر شائع کردہ ترقی اردو بورڈ کراچی زیر لفظ پڈا) (ناشر)