حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 214 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 214

حیات احمد ۲۱۴ جلد اول حصہ دوم تھے۔بعض لڑکوں کا دستور ہوتا ہے کہ وہ صرف سماعت کرتے ہیں قراءت نہیں کرتے مگر حضرت مرزا صاحب ہمیشہ اپنا سبق آپ پڑھتے اور دو یا تین دفعہ کہہ لینے کے بعد جماعت سے اٹھ جاتے اور اوپر بالا خانہ میں چلے جاتے۔وہ بالا خانہ اب تک موجود ہے اور وہاں جا کر ا کیلے اس کو یاد کرتے اور اگر کچھ بھول جاتا تو پھر نیچے آتے اور استاد سے براہ راست پوچھتے اور پوچھ کر پھر او پر چلے جاتے۔ان لڑکوں کی کھیل کود اور تفریحوں میں کبھی شریک نہ ہوتے تھے۔ہاں یہ آپ کے عادات میں داخل تھا کہ ان بچوں اور لڑکوں میں سے اگر کسی کو سبق بھول جائے یا نہ آئے تو اس کو بتلا دینے اور یاد کرا دینے میں کبھی بخل سے کام نہ لیتے۔شکار کا شوق نہ تھا مگر ایک پوڑی ضرور ماری تھی را جس زمانہ میں حضرت مسیح موعود کا بچپن جوانی کی طرف جارہا تھا عام طور پر لوگ ہتھیارات رکھتے تھے اور استعمال کرتے تھے۔اور گنکہ وغیرہ اور تلوار کے کرتب کی ورزشیں عام تھیں لیکن حضرت مسیح موعود چونکہ يَضَعُ الْحَرُب کے لئے آئے تھے اور ان کے زمانہ میں امن اور آسائش کی راہیں کھل جانے والی تھیں آپ نے ان امور کی طرف توجہ نہیں کی۔بحالیکہ یہ امور لازمہ شرافت و شجاعت سمجھے جاتے تھے۔عام طور پر غلیل کے ذریعہ سے شکار کیا جاتا تھا۔میری اپنی تحقیقات سے تو یہ پتہ لگتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی کبھی کبھی غلیل چلاتے تھے مگر آپ کے اس شوق کی تعداد شاید تین چار بار سے زیادہ نہ ہو۔یہ شوق اگر اس کو شوق کہا جاوے صرف اس وجہ سے ہوا ہے کہ آپ کے دیوان خانہ کے پاس اس حصہ میں جہاں مرزا سلطان احمد صاحب کا مکان ہے۔ایک شخص بستا نامی رہا کرتا تھا جو باہر رکھوالا ہوتا تھا وہ حفاظت کے لئے غلیل رکھا کرتا تھا اس سے لے کر کبھی آپ بھی چلا لیتے۔اور اسی شوق میں ایک مرتبہ اڑتے ہوئے طوطے کو شکار کر لیا۔مگر حضرت صاحبزادہ میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ایدہ اللہ الاحد جن کے عہدِ خلافت میں میں یہ سیرت لکھ رہا ہوں فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بندوق کے ساتھ شکار کیا تھا اور یہ روایت