حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 213 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 213

حیات احمد ۲۱۳ جلد اول حصہ دوم عند الناس بری الذمہ تھے۔لیکن خدا تعالیٰ نے اس پہلو سے بھی آپ پر کوئی اعتراض آنے نہیں دیا۔وہ شادی سادگی اور اسلامی نکاح کا ایک نمونہ تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خُسر اؤل آپ کے ماموں تھے اور وہ قادیان میں ہی رہتے تھے۔اس خاندان کے ساتھ آپ کے خاندان کے تعلقات دیرینہ چلے آتے تھے۔چونکہ وہ خاندان اپنے صحیح النسب ہونے کے لحاظ سے ممتاز اور مشار الیہ تھا۔اگر چہ دولت و اقبال کے لحاظ سے وہ اس خاندان کے ساتھ کوئی لگا نہیں کھاتا تھا تا ہم وہ چیز جو خاندانی شرافت اور نجابت کے لئے ضروری سمجھی گئی ہے اس میں موجود تھی۔مرزا جمعیت بیگ صاحب آپ کے ماموں اور خُسر یہاں ہی رہتے تھے اور جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شادی کی تجویز ہوئی تو اس کے ساتھ ہی نکاح ہو گیا۔کوئی دُھوم دھام اور کوئی رسم آپ کے نکاح میں عمل میں نہ آئی۔اس طرح پر جیسے ابتدائے زمانہ ہوش سے آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے مکروہات سے بچایا اور آپ کی تربیت فرمائی۔اس موقعہ پر بھی خلاف شرع امور کے وقوع سے بچالیا۔ایام طالب علمی میں دستور العمل آپ کی خلوت پسند طبیعت اور کھیل کو د اور لغویات سے متنفر عادت نے ہر موقعہ پر آپ کا ساتھ دیا۔میں آپ کی تعلیم کے متعلق ذکر پہلے کر آیا ہوں۔اسی سلسلہ کی تکمیل میں مجھے وہ دستور العمل بیان کر دینا چاہیئے جو ایام طالب علمی میں آپ کا تھا۔وہ کچا دیوان خانہ جہاں آج کل نواب محمد علی خان صاحب کے مکانات بنے ہوئے ہیں یہ تعلیم گاہ تھا۔عام طور پر مدرس لوگ طلباء سے کچھ ماہوار لے لیا کرتے تھے مگر حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب اپنے بچوں کی تعلیم کے لئے جس استاد کو مقرر کرتے آپ اس کو پوری تنخواہ دیتے اور دوسرے بچوں کو مفت تعلیم دینے کی اجازت دیتے اس وجہ سے جہاں حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب تعلیم پاتے تھے اس مکتب میں آپ کے طفیل سے اور بچے بھی پڑھتے اور بچے بچے ہی ہوتے ہیں ان میں ہر قسم کی باتیں کھیل کو ہنسی مذاق کی ہوتی ہیں۔ان کی عام عادت یہ تھی کہ یہ اپنا سبق آپ پڑھا کرتے