حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 212
حیات احمد ۲۱۲ جلد اول حصہ دوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پہلی شادی کے متعلق کچھ تذکرہ یہ ایک عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پہلی شادی جس شان سے ہوئی وہ اس خاندان کے اس وقت کے موجودہ رسم و رواج کے لحاظ سے بالکل نرالی اور انوکھی شادی تھی۔وہ زمانہ جو آج سے بہتر بہتر برس پیشتر کا زمانہ ہے۔ہندوستان کے مسلمانوں پر عجیب ابتلا کا زمانہ تھا۔سکھا شاہی کے سبب سے مسلمانوں میں نہ صرف دین و مذہب کی طرف سے بے پروائی پیدا ہوگئی تھی بلکہ النَّاسُ عَلَى دِينِ مُلُوكِهِمْ کے لحاظ سے ان کے طرز بود ماند اور لباس و وضع میں سکھیت پیدا ہو چلی تھی۔اسلامی شعائر کی بجائے عجیب و غریب رسوم قائم ہو چکی تھیں۔بیا ہوں اور شادیوں پر ایسے ایسے امور ہوتے تھے جو اسلام کے لئے باعث شرم ہوں۔اور وہ اعلیٰ تمدن اور اعلیٰ درجہ کے تمول اور خاندان کا نشان سمجھے جاتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بڑے بھائی جناب مرزا غلام قادر صاحب مرحوم کی شادی اس دھوم دھام سے کی گئی تھی کہ اس کی نظیر گرد و نواح میں اب تک بھی پیدا نہیں ہوئی۔ہر قسم کے سائلین اور غرباء کی جماعت یہاں جمع تھی ایک مہینے تک یہ جشن رہا بعض حاملہ عورتیں جو تقریب پر مانگنے کھانے کے لئے آئی ہوئی تھیں یہاں ہی بچے جن بیٹھیں۔جن میں سے ایک سائنسی میں نے بھی دیکھا ہے درواز و نام کا اور اب تک زندہ ہے۔راگ رنگ کی محفلیں گرم تھیں اور ۱۸ طائفے ارباب نشاط کے جمع تھے۔اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ شادی کس پیمانہ اور کس رنگ کی تھی مگر حضرت مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ نے ہر رنگ میں ہر قسم کی بدعات اور خلاف شریعت رسوم سے بچالیا۔آپ کی شادی کے سوال کا حل آپ کے اختیار میں نہ تھا۔حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم کے اختیار میں تھا جو اپنی شان و شوکت کے لحاظ سے اس وقت کے حالات کے موافق ہر قسم کے رسوم کے پابند ہو سکتے تھے۔چنانچہ جناب مرزا غلام قادر صاحب مرحوم کی شادی میں اس کا نمونہ نظر آتا ہے۔مگر قدرت الہی کا کرشمہ دیکھو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شادی کے وقت خود بخود ان رسوم خلاف شریعت میں سے ایک بھی ہونے نہیں پائی یہ تصرف الہی تھا آپ چونکہ مامور ہونے والے تھے اگر اس وقت آپ کے متعلق کوئی رسم ایسی ہو بھی جاتی تو بھی آپ