حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 211 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 211

حیات احمد ۲۱۱ جلد اول حصہ دوم ایسا خیال کر رہے ہیں کہ گویا ایشر کو اپنی موجودات کی تعداد ہی معلوم نہیں اور دنیا اس کی نظر سے دور رہ کر یونہی اب تک بچی ہوئی ہے اور نیز یہ بھی باوا صاحب کا خوش اعتقاد ہے کہ ایشر روحوں کا خالق نہیں بلکہ اس سوسائٹی کا ایک رکن اعلی ہے۔روحوں کے انادی ہونے کی تیسری دلیل کا ابطال پھر ایک اور دلیل مدرس صاحب نے بتائید انادی ہونے ارواح موجودہ کے پیش کی ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر پیدائش ارواح کی قدیمی اور انادی نہیں تو کیا ایشر پہلے زمانوں میں بیکار تھا۔یا پیدا کرنے سے عاجز اور ناچار تھا مدرس صاحب نے تو اس دلیل سے ارواح کو انادی اور بے انت ثابت کرنا چاہا مگر جب دانا آدمی غور کر کے دیکھے تو نہ انادی رہے اور نہ بے انت۔بلکہ دونوں دعوی کی صفائی ہوئی کیونکہ اگر بقول مدرس صاحب خدا روحوں کو ہمیشہ پیدا کرتا رہا ہے تو پھر ارواح کیا خاک انادی رہے جو صد ہا مرتبہ پیدا ہو چکے۔انادی تو وہ شے ہے کہ اس کی پیدائش کا کوئی ابتدا نہ ہو۔یہ کیا بات ہے کہ ایک طرف ہزاروں ابتدا ارواح کی پیدائش کے قبول کرتے ہو اور پھر ان کا نام انادی رکھتے ہو۔اسی طرح اس تقریر مبارک سے وہ بے انت بھی نہیں ہو سکتے کیونکہ بے انت وہ شے ہے کہ جس پر اور زیادتی ممکن نہ ہو اور کوئی مرتبہ نفس الامری نہ پایا جائے جہاں وہ موجود نہ ہو لیکن اگر روحوں پر اور زیادتی بقول مدرس صاحب غیر متناہی زمانوں تک ممکن ہے تو وہ بے انت نہ ہوئے۔اور اگر ممکن نہیں تو خدا کا ہمیشہ کے واسطے بیکار ہونا لازم آیا اور وہ بھی بقول مدرس صاحب باطل۔پس روحوں کا انا دی ہونا بہر حال باطل ہوا۔اس سوال پر نظر کہ خدا اب کیا کرتا ہے؟ اور یہ سوال کرنا کہ پہلے خدا کیا کرتا تھا اور اب کیا کرتا ہے اور پھر کیا کرے گا محض فضول اور طلب محال ہے۔کیا کوئی ایسی فہرست پیش کر سکتا ہے کہ جس میں خدا کی کل پہلی کارگزاریاں درج ہوں یا آئندہ کا بجٹ یا اسٹیمیٹ مرتب ہو۔جس قدر انسان سمجھ سکتا ہے وہ یہ ہے کہ خدا محتاج بالغیر نہیں یا اس کی خدائی تب ہی ثابت ہو جو وجود غیر کا ثابت ہواور نیز حقیقت امکانیہ پر وجود اور عدم دونوں طاری ہو سکتے ہیں۔پس ایسی حقیقت واجب الوجود کس طرح ہو سکے؟ را تم مرزا غلام احمد رئیس قادیان