حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 210
حیات احمد ۲۱۰ جلد اول حصہ دوم ہم دوسرے لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ مدرس صاحب کے اعتقاد میں ان کے ایشر کی گل یہی جائیداد تھی جو سوا چار ارب کے پیمانہ میں ناپی گئی اور آئندہ دیوالیوں کی طرح دونوں ہاتھ خالی ہیں۔افسوس کہ مدرس صاحب اس ناقص خیال پر بڑا زور مار رہے ہیں کہ ایشر اتنی ہی روح پیدا کر سکتا تھا جو پیمانہ مذکور میں محدود ہیں اس سے زیادہ نہیں۔لیکن افسوس بر افسوس که صاحب موصوف اس دعوی کی کوئی دلیل نہ لکھ سکے کہ کیوں ایشر اس مقدار محدود تک پیدا کر کے پھر ہمیشہ کے واسطے صفت خالقیت سے عاری رہ گیا۔بھلا کون سی خندق عمیق ایشر کو اس مقدار سے آگے پیدا کرنے سے روکتی تھی۔حالانکہ عقل تجویز کر سکتی ہے اور ہر ایک شخص اپنے نفس کو اس بات کا حکم بنا سکتا ہے کہ جس ایشر نے بقدر پیمانہ سوا چار ارب کے روحوں کو پیدا کیا وہی ایشر بقدر ساڑھے آٹھ ارب کے بھی پیدا کر سکتا تھا۔بھلا اس دعوئی پر کون سی برہان فلسفی قائم ہو سکتی ہے جو اس تعداد خاص سے زیادہ کوئی روح پیدا کرنا مستحیل اور محال تھا۔جو امر تجویز عقل سے جائز ہے اور حیز امکان میں داخل اس کو خدا کے اقتدار سے باہر سمجھنا ایک ایسا عجیب خیال ہے کہ اگر وہ کوئی بجسم چیز نہ ہوتی تو عجائب گھر میں رکھنے کے لائق تھی۔خدا کی قدرتوں کا کسی تعداد معلوم تک حد بست کرنا اور پھر اس کی صفت خالقیت کو ہمیشہ کے واسطے کا لعدم سمجھنا ہم نہیں جانتے کہ اس کا باعث تعصب ہے یا پرلے درجہ کی ناواقعی ہے۔اگر مدرس صاحب اس اعتراض کا یہ جواب دیں کہ ایشر کی یہی مرضی تھی کہ اسی قدر روحیں پیدا کرتا جو سوا چار ارب کے پیمانہ میں محدود ہیں تو ہم سے ابھی اس کا جواب سن لیں کہ یہ خیال ہی سراسر باطل اور غیر معقول ہے کیونکہ مرضی کا کام تو پھر بھی ہوسکتا ہے۔لیکن بقول مدرس صاحب اب ایشر روحوں کے پیدا کرنے سے ہمیشہ کے واسطے معزول ہے۔ہم بصد بجز و نیاز مدرس صاحب سے سوال کرتے ہیں کہ اس تخصیص بلا مخصص اور ترجیح بلا مریج کی وجہ بیان فرما دیں کیونکہ اغلب ہے کہ ان کے ذہن میں کوئی خاص وجہ ضرور ہوگی کہ ایشر اس مقدار محدود سے آگے پیدا کرنے سے کیوں ہمیشہ کے واسطے رک گیا۔شاید کہیں یہ وجہ نہ ہو کہ اس سے زیادہ پیدا کرنا ایشر کی طاقت سے باہر تھا۔افسوس کہ مدرس صاحب ہمارے مکمل ثبوت کو چھوڑ کر وہمی باتوں کی طرف بھاگتے ہیں اور دلائل قطعیہ کا اوہام رکیکہ کے ساتھ معارضہ کرنا چاہتے ہیں۔اسی طرح باوا صاحب بھی اپنے غلط فلسفہ سے