حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 205 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 205

حیات احمد ۲۰۵ جلد اول حصہ دوم اور درخت کہ جو ہر صاحب العباد ثلاثہ اور قوت نامیہ ہونے میں یہ تینوں شریک ہیں اور حساس اور متحرک بالا رادہ ہونے میں انسان اور گھوڑا مشارکت رکھتے ہیں لیکن ماہیت تامہ ہر ایک کی جدا جدا ہے غرض یہ صفت عارضی ممکنات کی حقیقت تامہ پر زائد ہے۔جس میں کبھی کبھی تشارک اور کبھی تفاسیر ان کا ہو جاتا ہے اور باوصف مختلف الحقائق اور متغائر الماہیت ہونے کے کبھی کبھی مشارکات میں ایک جنس کے تحت میں داخل ہو جاتے ہیں۔بلکہ کسی ایک حقیقت کے لئے ایک اجناس ہوتے ہیں۔اور یہ بھی کچھ سمجھا کہ کیوں ایسا ہوتا ہے۔یہ اس واسطے ہوتا ہے کہ ترکیب مادی ان کی اصل حقیقت ان کے پر زائد ہے اور سب کی ترکیب مادی کا ایک ہی استفس یعنی اصل ہے۔اب آپ پر ظاہر ہوگا کہ یہ تشارک ممکنات کا خصائص ذاتیہ میں تشارک نہیں۔بلکہ عوارض خارجیہ میں اشتراک ہے۔باطنی آنکھ انسان کی جس کو بصیرت قلبی ( اینلا ئٹمنٹ ) کہتے ہیں۔دوسرے حیوانات میں ہرگز نہیں پائی جاتی۔اخیر میں باوا صاحب اپنے خاتمہ جواب میں یہ بات کہہ کر خاموش ہو گئے ہیں کہ ” سب دلائل معترض کے تو ہمات ہیں۔قابل تردید نہیں۔اس کلمہ سے زیرک اور ظریف آدمیوں نے فی الفور معلوم کر لیا ہو گا کہ باوا صاحب کو یہ لفظ کیوں کہنا پڑا۔بات یہ ہوئی۔اوّل اوّل تو ہمارے معزز دوست جناب باوا صاحب جواب دینے کی طرف دوڑے اور جہاں تک ہو سکا ہاتھ پاؤں مارے اور اُچھلے گودے لیکن جب اخیر کو کچھ پیش نہ گئی اور عقدہ لا نخل معلوم ہوا۔تو آخر ہانپ کر بیٹھ گئے اور یہ کہہ دیا کہ کیا تردید کرنا ہے یہ تو تو ہمات ہیں۔لیکن ہر عاقل جانتا ہے کہ جن دلائل کی مقدمات یقینیہ پر بنیاد ہے۔وہ کیوں تو ہمات ہو گئے۔اب ہم اس مضمون کو ختم کرتے ہیں اور آئندہ بلاضرورت نہیں لکھیں گے۔راقم مرزا غلام احمد رئیس قادیان باوا نرائن سنگھ صاحب بھی آخر کار میدان مباحثہ کو چھوڑ گئے۔اسی اثناء میں ایک اور شخص آریہ سماج کی حمایت کے لئے میدان میں آیا۔