حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 206 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 206

حیات احمد ۲۰۶ منشی گور دیال سے مباحثہ جلد اول حصہ دوم منشی گوردیال صاحب مدرس مڈل سکول چنیوٹ تھے۔انہوں نے جب دیکھا کہ آریہ سماج کے مسلمہ اور بنیادی اصول روحوں کے انادی ہونے پر حضرت مرزا صاحب کی طرف سے ایک ایسا خطرناک حملہ ہوا ہے کہ یہ اعتقاد دلائل کے آگے باقی نہیں رہ سکتا تو انہوں نے بھی باوا نرائن سنگھ صاحب کی طرح آفتاب پنجاب میں ایک استفسار چھپوایا جو ۶ ارمئی ۱۸۷۸ء کے آفتاب پنجاب میں شائع ہوا۔حضرت مرزا صاحب نے منشی گوردیال کو ایک ایسا جواب دیا کہ وہ بھی اپنے سابق دوستوں اور ہم خیالوں کی طرح خاموش ہو گئے اور ان کی طرف سے پھر اس مسئلہ پر خامہ فرسائی کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ہے۔منشی صاحب کے اصرار پر جو مضمون حضرت مرزا صاحب نے لکھا اسے ذیل میں پورا درج کر دیا جاتا ہے۔ددمنشی گوردیال صاحب نے بعض خیالات اپنے بابت انادی ہونے روحوں کے پیش کر کے ہم سے جواب اُس کا بکمال اصرار طلب کیا ہے۔سواگر چہ ہم مضمون سابق کے خاتمہ میں تحریر کر چکے ہیں کہ آئندہ اس بحث پر بلا ضرورت نہیں لکھیں گے۔لیکن چونکہ منشی صاحب ممدوح نے بمراد ازالہ شکوک اپنے کے بہت التجا ظاہر کی ہے اور ہمارے نزدیک بھی رفع کرنا شبہات صاحب موصوف کا حقیقت میں ایک عمدہ تحقیق علمی ہے جو فائدہ عام سے خالی نہیں۔لھذا ہم اس جواب کو بوجہ ضروری اور لا بدی اور مفید عام ہونے کے ہمہ استثناء شمار کر کے برعایت اختصار ذیل میں درج کرتے ہیں۔روحوں کے بے انت ہونے کی پہلی دلیل اور اس کا ابطال اول خیال منشی صاحب کا جس کو وہ دلیل سمجھ کر بہ ثبوت انادی ہونے روحوں کے پیش کرتے ہیں یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ اپنی مخلوقات کی علت تامہ ہے اور تمام مخلوق اس کے معلول اور کوئی معلول اپنی علت تامہ سے متاثر نہیں رہ سکتا۔پس ثابت ہوا کہ ارواح موجودہ مثل ذات باری کے قدیم سے ہیں حادث نہیں ہیں۔