حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 204 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 204

حیات احمد ۲۰۴ جلد اول حصہ دوم صفات ذات الہی میں پائی جاتی ہیں۔وہ سب اس ذات بے مثل کے خصائص ہیں کوئی چیز ان میں شریک سهیم ذات باری کے نہیں ہوسکتی۔کیونکہ اگر ہو سکتی ہے تو پھر سب صفات اس کی میں شراکت غیر کی جائز ہوگی اور جب سب صفات میں شراکت جائز ہوئی تو ایک اور خدا پیدا ہو گیا۔بھلا اس بات کا آپ کے پاس کیا جواب ہے کہ جو خدا کی صفات قدیمہ میں سے جو انادی اور بے انت ہونے کی صفت ہے۔وہ تو اس کے غیر میں بھی پائی جاتی ہیں لیکن دوسری صفات اس کی اس سے مخصوص ہیں۔ذرا آپ خیال کر کے سوچیں کہ کیا خدا کی تمام صفات یکساں ہیں یا متقارب ہیں۔پس ظاہر ہے کہ اگر ایک صفت میں صفات مخصوصہ اس کی سے اشتراک بالغیر جائز نہ ہوگا اور اگر نہیں تو سب میں نہیں اور یہ جو آپ نے نظیر دی۔جو حیوانات مثل انسان کے آنکھ سے دیکھتے ہیں۔لیکن اس رویت سے انسان نہیں ہو سکتا نہ اس کے مساوی یہ نظیر آپ کی بے محل ہے۔اگر آپ ذرا بھی غور کرتے تو ایسی نظیر کبھی نہ دیتے۔حضرت سلامت ! یہ کون کہتا ہے کہ ممکنات کو عوارض خارجیہ میں باہم مشارکت اور مجانست نہیں۔امر متنازعہ فیہ تو یہ ہے کہ خصائص الہیہ میں کسی غیر اللہ کو بھی اشتراک ہے یا صفات اس کے اس کی ذات سے مخصوص ہیں۔آپ مدعی اس امر متنازعہ کے ہیں اور نظیر ممکنات کی پیش کرتے ہیں جو خارج از بحث ہے۔آپ امر متنازعہ کی کوئی نظیر دیں تب حجت تمام ہو ورنہ ممکنات کے تشارک تجانس سے یہ حجت تمام نہیں ہوتی نہ ذات باری کے خصائص کو ممکنات کے عوارض پر قیاس کرنا طریق دانشوری ہے۔علاوہ اس کے جو ممکنات میں بھی خصائص ہیں وہ بھی اُن کے ذوات سے مخصوص ہیں۔جیسا کہ انسان کی حد تام یہ ہے جو حیوان ناطق ہے اور ناطق ہونا انسان کے خصائص ذاتی میں سے اور اس کا فصل اور ممیز عن الغیر ہے۔یہ فصل اس کا نہیں کہ ضرور بینا بھی ہو اور آنکھ سے بھی دیکھتا ہو کیونکہ اگر انسان اندھا بھی ہو جائے تب بھی انسان ہے۔بلکہ انسان کے خصائص ذاتیہ سے وہ امر ہے جو بعد مفارقت روح کے بدن سے اس کے نفس میں بنا رہتا ہے۔ہاں یہ بات سچ ہے جو ممکنات میں اس وجہ سے جو وہ سب ترکیب عصری میں متحد ہیں بعض حالات خارج از حقیقت تامہ ہیں۔ایک دوسرے کی مشارکت بھی ہوتے ہیں۔جیسے انسان اور گھوڑا