حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 202
حیات احمد جلد اول حصہ دوم رو برو پیش کرتے ہیں جو غیر معلوم اور نا مفہوم چیزوں سے متعلق ہے۔اگر آپ کا یہ مطلب ہے کہ جس طرح خزانچی کو اپنی جمع تحویل شدہ کا کل میزان روپیہ آنہ پائی کا معلوم ہوتا ہے۔اسی طرح اگر انسان کو کل تعداد ارواح کا معلوم ہو تو تب قابل کمی ہوں گے ورنہ نہیں۔سو یہ بھی آپ کی غلطی ہے کیونکہ ہر عاقل جانتا ہے کہ جس چیز کا اندازہ تخمیناً کسی پیمانہ کے ذریعہ سے ہو چکا تو پھر ضرور عقل یہی تجویز کرے گی کہ جب اس اندازہ معلومہ سے نکالا جاوے تو بقدر تعداد خارج شدہ کے اصلی اندازہ میں کمی ہو جائے گی۔بھلا یہ کیا بات ہے کہ جب مکتی شدہ سے ایک فوج کثیر مکتی شدہ ارواح میں داخل ہو جائے تو نہ وہ کچھ کم ہوں اور نہ یہ کچھ زیادہ ہوں۔حالانکہ وہ دونوں محدود ہیں اور ظروف مکانی اور زمانی میں محصور۔اور جو یہ باوا صاحب فرماتے ہیں کہ تعداد روحوں کی ہم کو بھی معلوم ہونی چاہیئے تب قاعدہ جمع تفریق کا ان پر صادق آئے گا۔یہ قول باوا صاحب کا بھی قابل ملاحظہ ناظرین ہے۔ورنہ صاف ظاہر ہے کہ جمع بھی خدا نے کی اور تفریق بھی وہی کرتا ہے اور اس کو ارواح موجودہ کے تمام افراد معلوم ہیں اور فرد فرد اس کے زیر نظر ہے۔اس میں کیا شک ہے کہ جب ایک روح نکل کر مکتی یا بوں میں جاوے گی تو پر میشور کو معلوم ہے کہ یہ فرد اس جماعت میں سے کم ہو گیا اور اس جماعت میں سے بباعث داخل ہونے اس کے ایک فرد کی زیادتی ہو گئی۔یہ کیا بات ہے کہ داخل خارج سے وہی صورت بنی رہے۔نہ مکتی یاب کچھ زیادہ ہوں اور نہ وہ ارواح کہ جن سے کچھ روح نکل گئی۔بقدر نکلنے کے کم ہو جائیں اور نیز ہم کو بھی کوئی برہان منطقی مانع اس بات کا نہیں کہ ہم اس امر متیقن محقق طور پر رائے نہ لگا سکیں کہ جن چیزوں کا اندازہ بذریعہ ظرف مکانی اور زمانی کے ہم کو معلوم ہو چکا ہے۔وہ دخول و خروج سے قابل زیادت اور کمی ہیں۔مثلاً ایک ذخیرہ کسی قدر غلہ کا کسی کو ٹھے میں بھرا ہوا ہے اور لوگ اس سے نکال کر لئے جاتے ہیں۔سو گو ہم کو اس ذخیرہ کا وزن معلوم نہیں لیکن ہم بنظر محدود ہونے اس کے کے رائے دے سکتے ہیں کہ جیسا نکالا جائے گا کم ہوتا جائے گا۔اور یہ جو آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ خدا کا علم غیر محدود ہے۔اور روح بھی غیر محدود ہیں۔اسی