حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 201 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 201

حیات احمد جلد اول حصہ دوم بکثرت جانور آباد ہیں اور اس سے یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ بس ثابت ہو گیا کہ بس بے انت ہیں۔پس باوا صاحب پر واضح رہے۔کہ اول تو یہ خیال بعض حکماء کا ہے جس کو یورپ کے حکیموں نے اخذ کیا ہے اور ہماری گفتگو آریہ سماج کے اصولوں پر ہے۔سوا اس کے اگر ہم یہ بھی مان لیں کہ آریہ سماج کا بھی یہی اصول ہے تو پھر بھی کیا فائدہ کہ اس سے بھی آپ کا مطلب حاصل نہیں ہوتا۔اس سے تو صرف اتنا نکلتا ہے کہ مخلوقات خدا تعالیٰ کی بکثرت ہے۔ارواح کے بے انت ہونے سے اس دلیل کو کیا علاقہ ہے؟ پر شاید باوا صاحب کے ذہن میں مثل محاورہ عام لوگوں کے یہ سمایا ہوا ہو گا کہ بے انت اسی چیز کو کہتے ہیں جو بکثرت ہو۔باوا صاحب کو یہ سمجھنا چاہیئے کہ جس حالت میں یہ سب اجسام ارضی اور اجرام سماوی بموجب تحقیق فن ہیئت اور علم جغرافیہ کے معدود اور محدود ہیں تو پھر جو چیزیں ان میں داخل ہیں کس طرح غیر محدود ہو سکتی ہیں اور جس صورت میں تمام اجرام و اجسام زمین و آسمان کے خدا نے گنے ہوئے ہیں۔تو پھر جو کچھ ان میں آباد ہے۔وہ اس گنتی سے کب باہر رہ سکتا ہے؟ سو ایسے دلائل سے آپ کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا۔کام تو تب بنے کہ آپ یہ ثابت کریں که ارواح موجودہ تمام حدود و قیود و ظروف مکانی و زمانی اور فضائے عالم سے بالا تر ہیں کیونکہ خدا بھی انہیں معنوں پر بے انت کہلاتا ہے۔اگر ارواح بے انت ہیں تو وہی علامات ارواح میں ثابت کرنی چاہئیں۔اس لئے کہ بے انت ایک لفظ ہے کہ جس میں بقول آپ کے ارواح اور باری تعالیٰ مشارکت رکھتے ہیں اور اس کا حد تام بھی ایک ہے۔یہ بات نہیں کہ جب لفظ بے انت کا خدا کی طرف نسبت کیا جائے تو اس کے معنی اور ہیں۔اور جب ارواح کی طرف منسوب کریں تو اور معنی۔پھر بعد اس کے باوا صاحب فرماتے ہیں کہ کسی نے آج تک روحوں کی تعداد نہیں کی اس لئے لاتعداد ہیں۔اس پر ایک قاعدہ حساب کا بھی جو مَا نَحْنُ فِيْهِ سے کچھ تعلق نہیں رکھتا پیش کرتے ہیں اور اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ لا تعداد کی کمی نہیں ہوسکتی۔پس باوا صاحب پر واضح رہے کہ ہم تخمینی اندازہ ارواح کا بموجب اصول آپ کے بیان کر چکے ہیں اور ان کا ظروف مکانی اور زمانی میں محدود ہونا بھی بموجب انہی اصول کے ذکر ہو چکا ہے۔اور آپ اب تک وہ حساب ہمارے