حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 203
حیات احمد جلد اول حصہ دوم واسطے خدا کو روحوں کی تعداد معلوم نہیں۔یہ آپ کی تقریر بے موقع ہے۔جناب من! یہ کون کہتا ہے جو خدا کا علم غیر محدود نہیں۔کلام و نزاع تو اس میں ہے کہ معلومات خارجیہ اس کے جو تعیّناتِ وجودیہ سے مقید ہیں اور زمانہ واحد میں پائے جاتے ہیں اور ظروف زمانی و مکانی میں محصور اور محدود ہیں۔آیا تعداد ان اشیاء موجودہ محدودہ کو غیر موجود اور غیر محدود ثابت کریں تو تب کام بنتا ہے ورنہ علم الہی کہ موجود اور غیر موجود دونوں پر محیط ہے اس کے غیر متناہی ہونے سے کوئی چیز جو تعینات خارجیہ میں مفید ہو غیر متناہی نہیں بن سکتی۔اور آپ نے خدا کے علم کو خوب غیر محدود بنایا کہ جس سے روحوں کا احاطہ بھی نہ ہو سکا اور شمار بھی نہ معلوم ہوا با وصفیکہ سب موجود تھے کوئی معدوم نہ تھا۔کیا خوب بات ہے کہ آسمان اور زمین نے تو روحوں کو اپنے پیٹ میں ڈال کر بزبانِ حال اُن کی تعداد بتلائی پھر خدا کو کچھ بھی تعداد معلوم نہ ہوئی۔یہ عجیب خدا ہے اور اس کا علم عجیب تر۔بھلا میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ خدا کا جو ارواح موجودہ کا جو علم ہے یہ اس کے علوم متناہیہ کا جز ہے یا گل ہے۔اگر گل ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ خدا کو سوا روحوں کے اور کسی چیز کی خبر نہ ہو اور اس سے بڑھ کر اس کا کوئی عالم نہ ہو اور اگر جز ہے تو محدود ہو گیا۔کیونکہ بجز کل سے ہمیشہ چھوٹا ہوتا ہے۔پس اس سے بھی یہی نتیجہ نکلا کہ ارواح محدود ہیں اور خود یہی حق الا مر ہے۔۔جس شخص کو خدا نے معرفت کی روشنی بخشی ہو۔وہ خوب جانتا ہے کہ خدا کے بے انتہا علوم کے دریاءِ زمین سے علم ارواح موجودہ کا اس قدر بھی نسبت نہیں رکھتا کہ جیسے سوئی کو سمندر میں ڈبو کر اس میں کچھ تری باقی رہ جاتی ہے۔پھر باوا صاحب یہ تحریر فرماتے ہیں کہ یہ اعتراض کرنا بجا ہے کہ بے انت اور ا نا دی ہونا خدا کی صفت ہے اور اگر روح بھی بے انت اور انادی ہوں تو خدا کے برابر ہو جائیں گے کیونکہ جزوی مشارکت سے مساوات لازم نہیں آتی۔جیسے آدمی بھی آنکھ سے دیکھتا ہے اور حیوان بھی پر دونوں مساوی نہیں ہو سکتے۔“ یہ دلیل باوا صاحب کی تغلیط اور تسقیط ہے۔ورنہ کون عاقل اس بات کو نہیں جانتا کہ جو