حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 196 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 196

حیات احمد ۱۹۶ جلد اول حصہ دوم کے محتاج باسباب سمجھتے ہیں اور اگر آپ کا اس تقریر سے یہ مطلب ہے کہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ کس طرح پر میشور روحوں کو پیدا کر لیتا ہے تو اس وہم کے دفاع میں پہلے ہی لکھا گیا تھا کہ پر میشور کی قدرت کاملہ میں ہرگز یہ شرط نہیں کہ ضرور انسان کی سمجھ میں آ جایا کرے۔دنیا میں اس قسم کے ہزار ہا نمونہ موجود ہیں کہ قدرت مدرکہ انسان کی ان کی کنہ حقیقت تک نہیں پہنچ سکتی اور علاوہ اس کے ایک امر کا عقل میں نہ آنا اور چیز ہے اور اس کا محال ثابت ہونا اور چیز۔عدم ثبوت اس بات کا کہ خدا نے کس طرح روحوں کو بنا لیا۔اس بات کو ثابت نہیں کر سکتا کہ خدا سے روح نہیں بن سکتے تھے کیونکہ عدم علم سے عدم سے لازم نہیں آتا۔کیا ممکن نہیں جو ایک کام خدا کی قدرت کے تحت میں داخل تو ہو لیکن عقل ناقص ہماری اس کے اسرار تک نہ پہنچ سکے۔بلکہ قدرت تو حقیقت میں اسی بات کا نام ہے جو داغ احتیاج اسباب سے منزہ اور پاک اور ادراک انسانی سے برتر ہو۔اول خدا کو قادر کہنا اور پھر یہ زبان پر لانا کہ اس کی قدرت اسباب مادی سے تجاوز نہیں کرتی حقیقت میں اپنی بات کو آپ رڈ کرنا ہے۔کیونکہ اگر وہ فِی حَدَ ذَاتِهِ قادر ہے تو پھر کسی سہارے اور آسرے کا محتاج ہونا کیا معنی رکھتا ہے۔کیا آپ کی پستکوں میں قادر اور سرب شکتی مان اسی کو کہتے ہیں جو بغیر توسّل اسباب کے کارخانه قدرت اس کا بندر ہے۔اور نرا اس کے حکم سے کچھ بھی نہ ہو سکے۔شائد آپ کے ہاں لکھا ہو گا مگر ہم لوگ تو ایسے کمزور کو خدا نہیں جانتے۔ہمارا تو وہ قادر خدا ہے جس کی یہ صفت ہے کہ جو چاہا سو ہو گیا۔اور جو چاہے گا سو ہوگا۔خدا جیسے نظیر پیدا نہیں کرتا روح پیدا نہیں کرتا اس کا جواب پھر با واصاحب اپنے جواب میں مجھ کو فرماتے ہیں کہ جس طرح تم نے یہ مان لیا کہ خدا دوسرا خدا نہیں بنا سکتا اسی طرح یہ بھی ماننا چاہیئے کہ خدا روح نہیں پیدا کر سکتا۔اس فہم اور ایسے سوال سے اگر میں تعجب نہ کروں تو کیا کروں۔صاحب من! میں تو اس وہم کا کئی دفعہ آپ کو جواب دے چکا ہوں۔اب میں بار بار کہاں تک لکھوں۔میں حیران ہوں کہ آپ کو یہ بین فرق کیوں سمجھ میں نہیں آتا۔اور کیوں دل پر سے یہ حجاب نہیں اٹھتا کہ جو روحوں کے پیدا کرنے کو دوسرے خدا کی پیدائش