حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 195
حیات احمد ۱۹۵ جلد اول حصہ دوم کرنے سے اس قادر پر میشور کو عاجز سمجھا۔اس صورت میں آپ خود منصف ہوں اور بتلائیں کہ بارثبوت کس کے ذمہ ہے۔اور اگر ہم بطریق تنزل یہ بھی تسلیم کر لیں کہ اگر چہ دعویٰ آپ نے کیا۔مگر ثبوت اس کا ہمارے ذمہ ہے۔پس آپ کو مژدہ ہو۔کہ ہم نے سفیر ہند ۲۱ فروری میں خدا کے خالق ہونے کا ثبوت کامل دے دیا ہے۔جب آپ بنظر انصاف پر چہ مذکور کو ملاحظہ فرمائیں گے۔تو آپ کی تسلی کامل ہو جائے گی۔اور خود ظاہر ہے کہ خدا تو وہی ہونا چاہیئے۔جوموجد مخلوقات ہو نہ یہ کہ زور آور سلاطین کی طرح صرف غیروں پر قابض ہو کر خدائی کرے۔خدا اپنی نظیر کیوں پیدا نہیں کرتا ؟ اور اگر آپ کے دل میں یہ شک گزرتا ہے کہ پر میشور جو اپنی نظیر نہیں پیدا کرسکتا شاید اسی طرح ارواح کے پیدا کرنے پر بھی قادر نہ ہوگا۔پس اس کا جواب بھی پرچہ مذکور ۹ رفروری میں پختہ دیا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا ایسے افعال ہرگز نہیں کرتا جن سے اس کی صفات قدیم کا زوال لازم آئے جیسے وہ اپنا شریک نہیں پیدا کر سکتا۔اپنے آپ کو ہلاک نہیں کر سکتا۔کیونکہ اگر ایسا کرے۔تو اس کی صفات قدیمی جو وحدت ذاتی اور حیات ابدی ہے، زائل ہو جائے گی۔پس وہ قدوس خدا کوئی کام برخلاف اپنی صفات از لیہ کے ہرگز نہیں کرتا۔باقی سب افعال پر قادر ہے۔پس آپ نے جو روحوں کی پیدائش کو شریک الباری کی پیدائش پر قیاس کیا تو خطا کی۔میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ یہ آپ کا قیاس مع الفارق ہے۔ہاں اگر یہ ثابت کر دیتے کہ پیدا کرنا ارواح کا بھی مثل پیدا کرنے نظیر اپنی کے خدا کی کسی صفت عظمت اور جلال کے برخلاف ہے۔تو دعویٰ آپ کا بلاشبہ ثابت ہو جاتا۔روح کہاں سے پیدا ہوئی؟ پس آپ نے جو تحریر فرمایا ہے کہ یہ ظاہر کرنا چاہیئے کہ خدا نے روح کہاں سے پیدا کئے۔اس تقریر سے صاف پایا جاتا ہے۔آپ کو خدا کے قدرتی کاموں سے مطلق انکار ہے اور اس کو مثل آدم زاد