حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 197 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 197

حیات احمد ۱۹۷ جلد اول حصہ دوم پر قیاس کرنا خیال فاسد ہے کیونکہ دوسرا خدا بنانے میں وہ صفت ازلی پر میشور کی جو واحد لاشریک ہونا ہے نابود ہو جائے گی۔لیکن پیدائش ارواح میں کسی صفت واجب الوجود کا ازالہ نہیں بلکہ نا پید کر نے کا ازالہ ہے کیونکہ اس سے صفت قدرت کی جو پرمیشور میں بالا تفاق تسلیم ہو چکی ہے زاویہ اختفا میں رہے گی اور بپایہ ثبوت نہیں پہنچے گی۔اس لئے کہ جب پر میشور نے خود ایجا داپنے سے بلا توسل اسباب کے کوئی چیز محض قدرت کاملہ اپنی سے پیدا ہی نہیں کی تو ہم کو کہاں سے معلوم ہو کہ اس میں ذاتی قدرت بھی ہے۔اگر یہ کہو کہ اس میں کچھ ذاتی قدرت نہیں تو اس اعتقاد سے وہ پرادھین یعنی محتاج بالغیر ٹھہرے گا اور یہ بہداہت عقل باطل ہے۔غرض پر میشور کا خالق ارواح ہونا تو ایسا ضروری امر ہے جو بغیر تجویز مخلوقیت ارواح کے سب کا رخانہ خدائی کا بگڑ جاتا ہے۔لیکن دوسرا خدا پیدا کرنا صفت وحدت ذاتی کے برخلاف ہے۔پھر کس طرح پر میشور ایسے امر کی طرف متوجہ ہو کہ جس سے اس کی صفت قدیمہ کا بطلان لازم آوے اور نیز اس صورت میں جو روح غیر مخلوق اور بے انت مانے جائیں کل ارواح صفت انا دی اور غیر محدود ہونے میں خدا سے شریک ہو جائیں گی۔اور علاوہ اس کے پرمیشور بھی اپنی صفت قدیم سے جو پیدا کرنا بلا اسباب ہے محروم رہے گا اور یہ ماننا پڑے گا کہ پر میشور کو صرف روحوں پر جمعداری ہی جمعداری ہے اور ان کا خالق اور واجب الوجود نہیں۔روحوں کے بے انتہا ہونے کی بحث پھر بعد اس کے باوا صاحب اسی اپنے جواب میں روحوں کے بے انتہا ہونے کا جھگڑا لے بیٹھے ہیں۔جس کو ہم پہلے اس سے ۹ / اور ۱۶ / فروری کے سفیر ہند میں ۱۴ دلائل پختہ سے رڈ کر چکے ہیں۔لیکن باوا صاحب اب تک انکار کئے جاتے ہیں۔پس ان پر واضح رہے کہ یوں تو ان کا انکار کرنا اور نہ ماننا سہل بات ہے اور ہر ایک کو اختیار ہے کہ جس بات پر چاہے رہے پر ہم تو تب جانتے کہ آپ کسی دلیل ہماری کو ر ڈ کر کے دکھلاتے اور بے انت ہونے کی وجوہات پیش کرتے۔آپ کو سمجھنا چاہیئے کہ جس حالت میں ارواح بعض جگہ نہیں پائے جاتے تو بے انت کس طرح ہو گئے۔کیا