حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 194 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 194

حیات احمد ۱۹۴ جلد اول حصہ دوم رقم تاوان کے مشتہر کرنا ہے۔مگر جب جواب الجواب شائع ہوتا ہے تو باوا صاحب نام نہیں لیتے گویا کوئی واقعہ ہی نہیں ہوا اور ہوتا ہے تو کیا کہ باوا صاحب آج آریہ سماج کے پلیٹ فارم سے الگ ہیں۔یہ حضرت مسیح موعود کی آریہ سماج پر فتح کا ایک اور نشان ہے۔بہر حال ان نتائج پر بحث کو الگ رکھ کر اس معرکۃ الآراء مضمون کو میں یہاں درج کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔جس نے سوامی دیا نند صاحب جیسے انسان کو اپنی پوزیشن چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔حضرت مسیح موعود کا پانصدی جواب الجواب با وانرائن سنگھ صاحب سیکرٹری آریہ سماج امرتسر مطبوعہ پر چه آفتاب ۱۸ فروری اول باوا صاحب نے یہ سوال کیا ہے کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ خدا روحوں کا خالق ہے؟ اور ان کو پیدا کر سکتا ہے۔اس کے جواب الجواب میں قبل شروع کرنے کے یہ عرض کرنا ضروری ہے۔کہ از روئے قاعدہ فن مناظرہ کے آپ کا ہرگز یہ منصب نہیں ہو سکتا کہ آپ روحوں کے مخلوق ہونے کا ہم سے ثبوت مانگیں۔باوا نرائن سنگھ اپنی پوزیشن نہیں سمجھتے بلکہ یہ حق ہم کو پہنچتا ہے کہ ہم آپ سے روحوں کے بلا پیدائش ہونے کی سند طلب کریں کیونکہ آپ پر چہ مذکور العنوان میں خود اپنی زبان مبارک سے اقرار کر چکے ہیں کہ پر میشور قادر ہے اور تمام سلسلہ عالم کا وہی منتظم ہے۔اب ظاہر ہے کہ ثبوت دینا اس امر جدید کا آپ کے ذمہ ہے کہ پر میشور جو قدیم سے قادر ہے۔وہ اب بھی قادر ہے۔سو حضرت یہ آپ کو چاہیئے تھا کہ ہم کو اس بات کا ثبوت کامل دیتے کہ پر میشور با وصف قادر ہونے کے پھر روحوں کے پیدا کرنے سے کیوں عاجز رہے گا۔ہم پر یہ سوال نہیں ہو سکتا کہ پر میشور ( جو قادر تسلیم ہو چکا ہے ) روحوں کے پیدا کرنے کی کس قدر قدرت رکھتا ہے۔کیونکہ خدا کے قادر ہونے کو تو ہم اور آپ دونوں مانتے ہیں۔پس اس وقت تک تو ہم میں اور آپ میں کچھ تنازعہ نہ تھا پھر تنازعہ تو آپ نے پیدا کیا جو روحوں کے پیدا