حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 193
حیات احمد ۱۹۳ جلد اول حصہ دوم قارئین کرام اس اعلان کو غور سے پڑھیں اور دیکھیں کہ کس قوت اور جرات سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام حقانیت اسلام اور ابطال باطل کے لئے میدان میں نکلتے ہیں اور دشمن کو کوئی موقعہ گریز کا نہیں دیتے۔اس کی تمام ہی شرائط کو تسلیم کر لیا ہے۔ہر چند کہ وہ سراسر غیر ضروری تھیں مگر حمیت اسلام کے جوش نے گوارا نہیں کیا کہ اتنا بھی کہلا ئیں کہ فلاں شرط کی عدم منظوری سے مباحثہ کو ٹال دیا۔اب جبکہ معاملہ صاف ہو گیا تو باوا صاحب کا فرض تھا کہ وہ باضابطہ اس مباحثہ کو سرانجام دیتے لیکن تاریخ اس معاملہ میں خاموش ہے اور کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ : با واصاحب نے پانچ سو روپیہ انعام یا جرمانہ کا لے کر اعلان کیا ہو کہ پنڈت دیا نند صاحب کا مشتہرہ عقیدہ درست تھا۔بلکہ برخلاف اس کے قدرت حق کا اظہار اس طرح پر ہوتا ہے کہ پنڈت دیانند صاحب اس عقیدہ سے بیزار ہو جاتے ہیں۔اسی اعلان میں میں ایک خاص امر کی طرف بھی توجہ دلانی چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ثالثوں کے تقرر میں پنڈت دیانند صاحب سرسوتی کا نام بھی پیش کرتے ہیں۔پنڈت دیانند صاحب کے پیش کردہ عقیدہ پر بحث ہے۔وہ گو یا مدعی ہے اور اس کے دعوی کو توڑنے کا اعلان ہے۔اسی مدعی کو بیج مان لیا جاتا ہے کہ تم آپ فیصلہ کرو! کیسا وثوق اور اطمینان اپنے دلائل اور عقیدہ کی مضبوطی پر ہے۔مدعی کو خود حوصلہ نہیں پڑسکتا کہ وہ ان دلائل کو توڑ کر اپنے حق میں ڈگری دے دے۔اس قسم کی اولوالعزمی اور جرأت کی نظیر بتاؤ اور یقینا نہیں ملے گی۔آریہ سماج کی تاریخ ہمارے سامنے ہے اور باوا صاحب بھی اب تک زندہ موجود ہیں۔یا تو ان کی وہ مستعدی اور سرگرمی کہ حضرت مسیح موعود کے اعلان کو کافی نہ سمجھ کر دستخطی تحریر لیتے ہیں اور انہوں نے گویا یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ پانچ سوروپیہ بذریعہ عدالت وصول کرنا ہے اور اس کو بطور