حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 159
۱۵۹ جلد اول حصہ دوم حیات احمد مقدمات میں بڑے بڑے آدمی تکلف اور بناوٹ سے کام لینے میں پر ہیز نہیں کرتے اور آبرو اور جان کے بچاؤ کے لئے جھوٹ کو جائز بھی قرار دے لیتے ہیں۔مگر حضرت مسیح موعود کی زندگی ایسے واقعات پیش کرتی ہے۔کہ سخت سے سخت ابتلا کے موقعہ پر بھی انہوں نے یہ گوارا کر لیا کہ اگر صداقت کے اظہار سے جان ، مال یا آبرو پر کوئی آفت آتی ہے۔تو اُسے قبول کر لیا جاوے۔مگر راستبازی کو ہاتھ سے نہ جانے دیا جاوے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایسے ابتلا آئے۔اور ان ابتلاؤں میں آپ ثابت قدم رہے۔چنانچہ اس کے بعض نظائر میں ذیل میں درج کرتا ہوں۔جو حضرت مسیح موعود نے اپنی راستبازی پر حملے کے جواب میں خود لکھے تھے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جس کی شہادت میں اوپر درج کر آیا ہوں۔حضرت مسیح موعود کے دعویٰ مسیحیت کے بعد مخالف ہو گیا۔اور جب وہ شدت مخالفت میں بڑھ گیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے جوش کرم سے اس کو ایک تبلیغی خط لکھا جس میں آپ نے انبیاء علیہم السلام کے طریق پر اور اسی وحی الہی کے ماتحت جو ولـــــــد لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ * کے پاک الفاظ میں آپ پر نازل ہوئی تھی۔اپنے سوانح اور سوانح میں راستبازی کو پیش کیا۔اس کے جواب میں مولوی محمد حسین صاحب نے جھنجھلا کر آپ کے صدق و راستبازی پر حملہ کیا۔یہ نہیں کہ واقعات کی بناء پر بلکہ یونہی جوش اور غیظ و غضب میں ایک بات کہہ دی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس کے جواب میں نظائر پیش کرنے پڑے۔اس لحاظ سے کہ ناظرین صفائی کے ساتھ اس بات کو سمجھ لیں۔میں اولاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خط کا وہ حصہ درج کروں گا۔جو آپ نے اپنے سوانح کو بطور تحدی پیش کیا۔پھر محمد حسین کا حملہ اور اس کا جواب واقعات کے ساتھ :۔- تحفہ بغداد۔روحانی خزائن جلدے صفحہ ۲۹