حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 160
حیات احمد ۱۶۰ جلد اول حصہ دوم خط بخدمت شیخ محمد حسین صاحب بٹالوی حضرت مسیح موعود کی تحدی اپنی راستبازی کے متعلق بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نحمده و نصلّى على رسوله الكريم بخدمت شیخ محمد حسین صاحب ابوسعید بٹالوی الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَى أَمَّا بَعْد ! میں افسوس سے لکھتا ہوں۔کہ میں آپ کے فتویٰ تکفیر کی وجہ سے جس کا یقینی نتیجہ اخـــــد الفَرِيقَین کا کافر ہونا ہے۔اس خط میں سلام مسنون یعنی السلام علیکم سے ابتدا نہیں کر سکا لیکن چونکہ آپ کی نسبت ایک مندر الہام مجھ کو ہوا۔اور چند مسلمان بھائیوں نے بھی مجھ کو آپ کی نسبت ایسی خواہیں سنائیں۔جن کی وجہ سے میں آپ کے خطرناک انجام سے بہت ڈر گیا۔تب بوجہ آپ کے ان حقوق کے جو بنی نوع کو اپنے نوع انسان سے ہوتے ہیں۔اور نیز بوجہ آپ کی ہموطنی اور قرب و جوار کے میرا رحم آپ کی اس حالت پر بہت جنبش میں آیا اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے آپ کی حالت پر نہایت رحم ہے۔اور ڈرتا ہوں کہ آپ کو وہ امور پیش نہ آ جائیں جو ہمیشہ صادقوں کے مکڈبوں کو پیش آتے رہے ہیں۔اسی وجہ سے میں آج رات کو سوچتا سوچتا ایک گرداب تفکر میں پڑ گیا کہ آپ کی ہمدردی کے لئے کیا کروں۔آخر مجھے دل کے فتویٰ نے یہی صلاح دی کہ پھر دعوت الی الحق کے لئے ایک خط آپ کی خدمت میں لکھوں۔کیا تعجب کہ اس تقریب سے خدا تعالیٰ آپ پر فضل کر دیوے اور اس خطرناک حالت سے نجات بخشے۔سوعزیز من آپ خدا تعالیٰ کی رحمت سے نوامید نہ ہوں۔وہ بڑا قادر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔اگر آپ طالب حق بن کر میری سوانح زندگی پر نظر ڈالیں تو آپ پر قطعی ثبوتوں سے یہ بات کھل سکتی ہے کہ خدا تعالیٰ