حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 158 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 158

حیات احمد ۱۵۸ حکیم مظہر حسین سیالکوٹی کی شہادت جلد اول حصہ دوم حکیم مظہر حسین سیالکوٹی ایک دشمن عنید تھا اور اس نے بطر ز ناول حضرت مسیح موعود کے بعض واقعات پر معاندانہ اعتراض کئے ہیں مگر اس میں بھی حق بر زبان جاری کا مضمون ثابت ہوا۔اس کے بیان سے وہ صفات میں ذکر کروں گا۔جو اس نے حضرت مسیح موعود کے متعلق بیان کی ہیں۔ثقہ صورت۔عالی حوصلہ۔اور بلند خیالات کا انسان اپنی علو ہمتی کے مقابل کسی کا وجود نہیں سمجھتا۔اندر قدم رکھتے ہی وضو کے لئے پانی مانگا۔اور وضو سے فراغت پاکر نماز مغرب ادا کی۔وظیفہ میں تھے ورد و وظائف کا لڑکپن سے شوق ہے۔مکتب کے زمانہ میں تحفتہ الہند۔تحفۃ الہنود وخلعت الہنود وغیرہ کتابیں اور سنی اور شیعہ اور عیسائی اور مسلمانوں کے مناظرہ کی کتابیں دیکھا کرتے تھے۔66 اور ہمیشہ آپ کا ارادہ تھا کہ کل مذاہب اسلام کی تردید میں کتابیں لکھ کر شائع کرائیں۔“ یہ مختصر سے کلمات میں نے نقل کئے ہیں۔جس سے آپ کی مرتاض زندگی اور غیرت اسلام کا شروع ہی سے جذ بہ ہونے کا اعتراف اس دشمن عنید کو بھی ہے۔گو وہ اپنے نفس پر قیاس کر کے ذریعہ روزگار بتاتا ہو۔ان شہادتوں کے بعد اب میں واقعات بتاتا ہوں کہ سخت سے سخت ابتلا اور آزمائش کے وقت بھی آپ کی راستبازی اور صداقت میں فرق نہیں آیا۔آپ کے راستباز ہونے پر واقعاتی شہادت انسان پر بعض حالتیں ایسی آ جاتی ہیں کہ وہ اپنی مخلصی اور کار برداری کے لئے تقویٰ اور دیانت کے تمام حصوں کو ترک کر دیتا ہے۔اور دنیا کو دین پر مقدم کر لیتا ہے۔مگر میں واقعات سے بتاؤں گا اور انشاء اللہ دکھاؤں گا کہ کیسے نازک مقامات پر آپ نے راستبازی اور تقویٰ کو ہاتھ سے نہیں دیا۔بلکہ دنیا کے نقصان اور شاعت کی ذرا بھی پرواہ نہ کر کے راستبازی کے لئے ہر قسم کی قربانی کر دینے پر آمادگی ظاہر کی۔اور بالآ خر سچائی کی فتح ہوئی۔اس راستبازی اور صداقت نے اس امتحان میں آپ کو صحیح وسلامت باہر نکالا۔