حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 140 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 140

حیات احمد ۱۴۰ جلد اوّل حصہ اول خدا کا اختیار ہے انسان کا اُس پر حکم نہیں مگر اُس آریہ نے اپنے انکار پر بہت اصرار کیا۔غرض جب میں نے دیکھا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں اور دین اسلام کی عظمتوں سے سخت منکر ہے تب میرے دل میں خدا کی طرف سے یہ جوش ڈالا گیا کہ خدا اُس کو اسی مقدمہ میں شرمندہ اور لاجواب کرے۔اور میں نے دعا کی کہ اے خدا وند کریم تیرے نبی کی عزت اور عظمت سے یہ شخص سخت منکر ہے اور تیرے نشانوں اور پیشگوئیوں سے جو تو نے اپنے رسول پر ظاہر فرما ئیں سخت انکاری ہے اور اس مقدمہ کی آخری حقیقت کھلنے سے یہ لا جواب ہوسکتا ہے۔اور تو ہر بات پر قادر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔اور کوئی امر تیرے علم محیط سے مخفی نہیں۔تب خدا نے جو اپنے بچے دین اسلام کا حامی ہے اور اپنے رسول کی عزت اور عظمت چاہتا ہے۔رات کے وقت رویا میں کل حقیقت مجھ پر کھول دی اور ظاہر کیا کہ تقدیر الہی میں یوں مقدر ہے کہ اُس کی مثل چیف کورٹ سے عدالت ماتحت میں پھر واپس آئے گی۔اور پھر اس عدالت ماتحت میں نصف قید اُس کی تخفیف ہو جائے گی مگر بُری نہیں ہو گا۔اور جو اُس کا دوسرا رفیق ہے وہ پوری قید بھگت کر خلاصی پا جائے گا اور بُری وہ بھی نہیں ہوگا۔پس میں نے اس خواب سے بیدار ہو کر اپنے خداند کریم کا شکر کیا۔جس نے مخالف کے سامنے مجھ کو مجبور ہونے نہ دیا اور اُسی وقت میں نے یہ رویا ایک جماعت کثیر کو سنا دیا۔اور اُس ہند و صاحب کو بھی اسی دن خبر کر دی۔“ ( براہین احمدیہ جلد سوم صفحہ ۲۵۰-۲۵۱- حاشیه در حاشیہ نمبر ا۔روحانی خزائن جلد اصفحه ۲۷۶ تا ۲۷۸) اس مقام میں یاد آیا کہ جو رو یا صادقہ حصہ سوم (مندرجہ بالا ) میں ایک ہندو کے مقدمہ کے بارہ میں لکھی گئی ہے۔اُس میں بھی ایک عجیب نزاع وانکار کے موقع پر الہام ہوا تھا جس سے ایک بڑا قلق اور کرب دور ہوا۔تفصیل اس کی یہ ہے کہ اس رویا صادقہ میں کہ ایک کشف صریح کی قسم تھی یہ معلوم کرایا گیا کہ ایک کھتری ہندو بشمبر داس