حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 139
حیات احمد ۱۳۹ جلد اوّل حصہ اول کے ممبر اور صحیح سلامت موجود ہیں۔حضرت خاتم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور آں جناب کی پیشگوئیوں سے سخت منکر تھا۔اور اُس کا پادریوں کی طرح شدّتِ عناد سے یہ خیال تھا کہ یہ سب پیشگوئیاں مسلمانوں نے آپ بنالی ہیں ورنہ آنحضرت پر خدا نے کوئی امر غیب ظاہر نہیں کیا اور اُن میں یہ علامت نبوت موجود ہی نہیں تھی۔مگر سبحان اللہ کیا فضل خدا کا اپنے نبی پر ہے اور کیا بلندشان اُس معصوم اور مقدس نبی کی ہے۔جس کی صداقت کی شعاعیں اب بھی ایسی ہی چمکتی ہیں کہ جیسی قدیم سے چمکتی آئی ہیں۔کچھ تھوڑے دنوں کے بعد ایسا اتفاق ہوا کہ اس ہندو صاحب کا ایک عزیز کسی ناگہانی بیچ میں آکر قید ہو گیا اور اُس کے ہمراہ ایک اور ہندو بھی قید ہوا اور ان دونوں کا چیف کورٹ میں اپیل گزرا۔اُس حیرانی اور سرگردانی کی حالت میں ایک دن اُس آریا صاحب نے مجھ سے یہ بات کہی کہ غیبی خبر اسے کہتے ہیں کہ آج کوئی یہ بتلا سکے کہ اس ہمارے مقدمہ کا انجام کیا ہے۔تب میں نے جواب دیا کہ غیب تو خاصہ خدا کا ہے اور خدا کے پوشیدہ بھیدوں سے نہ کوئی نجومی واقف ہے نہ رمال نہ فال گیر اور نہ کوئی مخلوق۔ہاں خدا جو آسمان و زمین کی ہر ایک شدنی بات سے واقف ہے اپنے کامل اور مقدس رسولوں کو اپنے ارادہ اور اختیار سے بعض اسرار غیبیہ پر مطلع کرتا ہے۔اور نیز کبھی کبھی جب چاہتا ہے تو اپنے سچے رسول کے کامل تابعین پر جو اہل اسلام ہیں۔اُن کی تابعداری کی وجہ سے اور نیز اس باعث سے کہ وہ اپنے رسول کے علوم کے وارث ہیں بعض اسرار پوشیدہ ان پر بھی کھولتا ہے۔تا اُن کے صدق مذہب پر ایک نشان ہو۔لیکن دوسری قو میں جو باطل پر ہیں جیسے ہندو اور اُن کے پنڈت اور عیسائی اور اُن کے پادری وہ سب ان کامل برکتوں سے بے نصیب ہیں۔میرا یہ کہنا ہی تھا کہ وہ شخص اس بات پر اصراری ہو گیا کہ اگر اسلام کے متبعین کو دوسری قوموں پر ترجیح ہے تو اسی موقعہ پر اُس ترجیح کو دکھلانا چاہئے۔اس کے جواب میں ہر چند کہا گیا کہ اس میں