حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 141 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 141

حیات احمد ۱۴۱ جلد اوّل حصہ اوّل نامی جواب تک قادیان میں بقید حیات موجود ہے مقدمہ فوجداری سے بُری نہیں ہوگا مگر آدھی قید تخفیف ہو جائے گی لیکن اس کا دوسرا ہم قید خوشحال نامی کہ وہ ابھی تک قادیان میں زندہ موجود ہے ساری قید بھگتے گا۔سو اس جزو کشف کی نسبت یہ ابتلا پیش آیا کہ جب چیف کورٹ سے حسب پیشگوئی اس عاجز مثل مقدمہ مذکورہ واپس آئی تو متعلقین مقدمہ نے اُس واپسی کو بریت پر حمل کر کے گاؤں میں یہ مشہور کر دیا کہ دونوں ملزم مجرم سے بری ہو گئے ہیں۔مجھ کو یاد ہے کہ رات کے وقت میں یہ خبر مشہور ہوئی اور یہ عاجز مسجد میں عشاء کی نماز پڑھنے کو طیار تھا کہ ایک نے نمازیوں میں سے بیان کیا کہ یہ خبر بازار میں پھیل رہی ہے اور ملزمان گاؤں میں آ گئے ہیں۔سوچونکہ یہ عاجز علانیہ لوگوں میں کہہ چکا تھا کہ دونوں مجرم ہرگز جرم سے بری نہیں ہوں گے۔اس لئے جو کچھ غم اور فلق اور کرب اس وقت گزرا سو گزرا۔تب خدا نے کہ جو اس عاجز بندہ کا ہر ایک حال میں حامی ہے نماز کے اول یا عین نماز میں بذریعہ الہام یہ بشارت دی۔لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعْلَى اور پھر فجر کو ظاہر ہو گیا کہ وہ خبر بری ہونے کی سراسر جھوٹی تھی۔اور انجام کا روہی ظہور میں آیا کہ جو اس عاجز کو خبر دی گئی تھی۔جس کو شرمپت ایک آریہ اور چند دوسرے لوگوں کے پاس قبل از وقوع بیان کیا گیا تھا کہ جواب تک قادیان میں موجود ہیں۔“ (براہین احمدیہ حصہ چہارم حاشیه در حاشیه نمبر ۴ صفحه ۵۴۹ تا ۵۵۱ - روحانی خزائن جلد اصفحه ۶۵۲ تا ۶۵۸) لالہ ملا وامل اور شرمیت رائے صاحب حضرت مسیح موعود کے بہت سے نشانات کے گواہ ہیں۔یہ دو واقعات تو چونکہ ان کی اپنی ذات سے متعلق تھے میں نے درج کر دیئے۔حضرت اقدس کی زندگی میں اپنے والد صاحب کی وفات کے بعد ایک عظیم الشان انقلاب نوٹ۔اس وقت فوت ہو چکا ہے۔یہ بھی فوت ہو چکا ہے۔(ایڈیٹر )