حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 102 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 102

حیات احمد ۱۰۲ حضرت مرزا صاحب کی رؤیا جلد اول حصہ اوّل چنانچہ یہ عاجز اپنے بعض خوابوں میں سے جن کی اطلاع اکثر مخالفین اسلام کو انہیں دنوں میں دی گئی تھی کہ جب وہ خوا ہیں آئی تھیں۔اور جن کی سچائی بھی انہیں کے روبرو ظاہر ہوگئی۔بطور نمونہ بیان کرتا ہے۔منجملہ اُن کے ایک وہ خواب ہے جس میں اس عاجز کو جناب خاتم الانبیاء محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی تھی۔اور بطور مختصر بیان اس کا یہ ہے کہ اس احقر نے ۱۸۶۴ ء یا ۱۸۶۵ء میں یعنی اسی زمانہ کے قریب کہ جب یہ ضعیف اپنی عمر کے پہلے حصہ میں ہنوز تحصیل علم میں مشغول تھا۔جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا اور اس وقت اس عاجز کے ہاتھ میں ایک دینی کتاب تھی کہ جو خود اس عاجز کی تالیف معلوم ہوتی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کتاب کو دیکھ کر عربی زبان میں پوچھا۔کہ تو نے اس کتاب کا کیا نام رکھا ہے۔خاکسار نے عرض کیا کہ اس کا نام میں نے قطبی رکھا ہے۔جس نام کی تعبیر اب اس اشتہاری کتاب کے تالیف ہونے پر یہ کھلی کہ وہ ایسی کتاب ہے کہ جو قطب ستارہ کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم ہے جس کے کامل استحکام کو پیش کر کے دس ہزار روپیہ کا اشتہار دیا گیا ہے۔غرض آنحضرت نے وہ کتاب مجھ سے لے لی اور جب وہ کتاب حضرت مقدس نبوی کے ہاتھ میں آئی تو آنجناب کا ہاتھ مبارک لگتے ہی ایک نہایت خوش رنگ اور خوبصورت میوہ بن گئی کہ جو امرود سے مشابہ تھا مگر بقدر تربوز تھا۔آنحضرت نے جب اس میوہ کو تقسیم کرنے کے لئے قاش قاش کرنا چاہا تو اس قدر اُس میں سے شہد نکلا کہ آنجناب کا ہاتھ مبارک مرفق تک شہد سے بھر گیا تب ایک مُردہ کہ جو دروازہ سے باہر پڑا تھا آنحضرت کے معجزہ سے زندہ ہوکر اس عاجز کے پیچھے آ کھڑا ہوا۔اور یہ عاجز آنحضرت کے سامنے کھڑا تھا۔جیسے ایک مستغیث حاکم کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔اور آنحضرت بڑے جاہ و جلال اور حاکمانہ شان سے ایک زبر دست