حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 101 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 101

حیات احمد 1+1 انبیاء کی وحی رویا صالحہ سے شروع ہوتی ہے جلد اوّل حصہ اول یہ ایک مسلّم بات ہے کہ منہاج نبوت پر آنے والوں کی وحی ابتداء رؤیا صالحہ سے ہی شروع ہوتی ہے۔اور رویا صالحہ کو نبوت کے اجزاء سے قرار دیا گیا ہے۔خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی بھی رویا صالحہ سے شروع ہوئی تھی۔چنانچہ حضرت صدیقہ مطہرہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَ أَرْضَاهَا فرماتی ہیں۔اَوَّلُ مَا بَدَءَ بِهِ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ فِى النَّوْمِ فَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلْقِ الصُّبْحِ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کی ابتدا یوں ہوئی کہ آپ کو پہلے خواب میں ٹھیک ٹھیک رؤیا دکھائی دینے لگی۔ہر ایک رؤیا کی تعبیر روز روشن کی طرح واضح و آشکار ہوتی تھی۔حضرت مرزا صاحب سے بھی سنت اللہ اسی طرح پر واقعہ ہوئی۔وہ ابتداء نہایت صحیح رؤیا دیکھتے اور ان خوابوں سے ان لوگوں کو واقف اور آگاہ کرتے جو آپ کے پاس رہتے یا غیر مذاہب کے لوگوں کو بلا کر قبل از وقت بتا دیتے۔حضرت مرزا صاحب کو آپ کی آئندہ زندگی کے واقعات بھی قبل از وقت دکھائے گئے تھے۔میں ان واقعات اور حالات کو اپنے اپنے مقام پر تفصیل سے لکھوں گا۔وَ بِاللَّهِ التَّوْفِيقِ یہاں میں ایک رؤیا آپ کی درج کرنی چاہتا ہوں جو آپ نے ۱۸۶۴ء یا ۱۸۶۵ء میں دیکھی۔آپ نے اس رؤیا کے دیکھنے کا زمانہ ایام طالب علمی میں قرار دیا ہے۔لیکن جس سال کا آپ ذکر کرتے ہیں وہ سال آپ کے ابتدائی ایام ملازمت سیالکوٹ کا سال تھا اور ابھی تعلیمی سلسلہ سے تازہ ہی فارغ ہوئے تھے۔بہر حال اس بحث میں نہ پڑ کر کہ یہ رویا آپ نے بٹالہ دیکھی یا سیالکوٹ اصل رؤیا یہاں درج کی جاتی ہے۔بخاری کتاب بدء الوحي باب كيف كان بدء الوحى الى رسول الله صلى الله عليه وسلم۔۔