حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 103 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 103

حیات احمد ۱۰۳ جلد اوّل حصہ اول پہلوان کی طرح کرسی پر جلوس فرما رہے تھے۔پھر خلاصہ کلام یہ کہ ایک قاش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو اس غرض سے دی کہ تا میں اُس شخص کو دوں کہ جو نئے سرے سے زندہ ہوا۔اور باقی تمام قاشیں میرے دامن میں ڈال دیں اور وہ ایک قاش میں نے اُس نئے زندہ کو دے دی۔اور اس نے وہیں کھالی۔پھر جب وہ نیا زندہ اپنی قاش کھا چکا تو میں نے دیکھا کہ آنحضرت کی کرسی مبارک اپنے پہلے مکان سے بہت ہی اونچی ہوگئی اور جیسے آفتاب کی کرنیں چھوٹتی ہیں ایسا ہی آنحضرت کی پیشانی مبارک متواتر چمکنے لگی کہ جو دین اسلام کی تازگی اور ترقی کی طرف اشارت تھی تب اُسی نور کا مشاہدہ کرتے کرتے آنکھ کھل گئی۔وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ۔یہ وہ خواب ہے کہ تقریباً دو سو آدمی کو انہیں دنوں میں سنائی گئی تھی۔جن میں سے پچاس یا کم و بیش ہندو بھی ہیں کہ جو اکثر اُن میں سے ابھی تک صحیح وسلامت ہیں اور وہ تمام لوگ خوب جانتے ہیں کہ اس زمانہ میں براہین احمدیہ کی تالیف کا ابھی نام ونشان نہ تھا اور نہ یہ مرکوز خاطر تھا کہ کوئی دینی کتاب بنا کر اُس کے استحکام اور سچائی ظاہر کرنے کے لئے دس ہزار روپیہ کا اشتہار دیا جائے۔لیکن ظاہر ہے کہ اب وہ باتیں جن پر خواب دلالت کرتی ہے کس قدر پوری ہو گئی ہیں۔اور جس قطبیت کے اسم سے اُس وقت کی خواب میں کتاب کو موسوم کیا گیا تھا اُسی قطبیت کو اب مخالفوں کے مقابلہ پر بوعدہ انعام کثیر پیش کر کے حجت اسلام اُن پر پوری کی گئی ہے۔اور جس قد ر اجزا اُس خواب کے ابھی تک ظہور میں نہیں آئے اُن کے ظہور کا سب کو منتظر رہنا چاہئے کہ آسمانی باتیں کبھی ٹل نہیں سکتیں۔66 (براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد اصفحه ۴ ۲۷ تا ۲۷۶ حاشیہ نمبرا) اس خواب کی تعبیر فلق الصبح کی طرح ظاہر ہے۔وہ زندہ ہونے والا مردہ دین اسلام ہے۔جو حضرت مرزا صاحب کے ہاتھ سے زندہ ہوا۔ناظرین حضرت مرزا صاحب کی اس رؤیا کو