حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 91
حیات احمد ۹۱ جلد اوّل حصہ اول اور کثرت میں وحدت تھی۔اور شہر میں میں ایسار ہتا تھا جیسا کہ ایک شخص جنگل میں۔مجھے اس زمین سے ایسی ہی محبت ہے جیسا کہ قادیان سے کیونکہ میں اپنے اوائل زمانہ کی عمر میں سے ایک حصہ اس میں گزار چکا ہوں اور اس شہر کی گلیوں میں بہت سا پھر لیکچر سیالکوٹ ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۴۳٬۲۴۲) حضرت مرزا صاحب کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ سیالکوٹ میں کس حیثیت اور شان سے رہتے تھے اور باوجود یکہ آپ ایک اہل کار اور لوگوں کے ساتھ تعلقات رکھتے تھے پھر بھی آپ چکا ہوں۔“ کی حالت اس شعر کی مصداق تھی بگیر رسم تعلق دلا ز مرغابی بود در آب چو برخاست خشک برخاست پر وہ صیغہ جس میں آپ ملازم تھے۔اغراض شکم پری کے لئے ایک بہترین صیغہ تھا مگر آپ کی دیانت اور امانت اور تقویٰ و طہارت اور نیک روش نے آپ کو ہر طرح بےلوث ثابت کیا۔آپ کے قیام سیالکوٹ کے مفصل حالات میرے ایک معز ز مخدوم سید میرحسن صاحب قبلہ نے لکھے ہیں جن کی علمی قابلیت اور فیض نے بہت لوگوں کو نفع پہنچایا ہے۔سید صاحب نے میری درخواست پر مختصراً جو کچھ لکھا ہے اُس میں بہت کچھ بیان کر دیا ہے اُن کے ایک ایک جملہ پر علم الاخلاق کے لطائف اور سیرت کے اسرار سے واقف ایک ایک رسالہ لکھ سکتے ہیں۔اور خدا تعالیٰ نے چاہا تو جہاں حضرت مرزا صاحب کے اخلاق پر بحث ہو گی ان واقعات سے استنباط کیا جائے گا۔سردست میں ایک وقائع نگار کی حیثیت سے ان واقعات کو لکھ دینا پسند کرتا ہوں اور حضرت سید میرحسن صاحب کی اس مہربانی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں کے الفاظ میں لکھ دینا چاہتا ہوں:۔ترجمہ : اے دل تو محبت کے آداب کو مرغابی سے سیکھ۔وہ پانی میں ہوتی ہے لیکن جب وہ پانی سے اڑتی ہے تو اس کے پر خشک ہوتے ہیں۔