حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 92
حیات احمد ۹۲ جلد اوّل حصہ اول حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مرحوم اور سیالکوٹ میں ان کا زمانہ قیام بتقریب ملازمت حضرت مرزا صاحب ۱۸۶۴ء میں تقریب ملازمت شہر سیالکوٹ میں تشریف لائے اور قیام فرمایا چونکہ آپ غزلت پسند اور پارسا اور فضول اور لغو سے مجتنب اور محترز تھے۔اس واسطے عام لوگوں کی ملاقات جوا کثر تضیع اوقات کا باعث ہوتی ہے آپ پسند نہیں فرماتے تھے۔لالہ بھیم سین صاحب وکیل جن کے نانا ڈپٹی مٹھن لال صاحب بٹالہ میں اکسٹرا اسسٹنٹ تھے ان کے بڑے رفیق تھے۔اور چونکہ بٹالہ میں مرزا صاحب اور لالہ صاحب آپس میں تعارف رکھتے تھے اس لئے سیالکوٹ میں بھی ان سے اتحاد کامل رہا۔پس سب سے کامل دوست مرزا صاحب کے اگر اس شہر میں تھے تو لالہ صاحب ہی تھے۔اور چونکہ لالہ صاحب طبع سلیم اور لیاقت زبان فارسی اور ذہن رسا رکھتے تھے اس سبب سے بھی مرزا صاحب کو علم دوست ہونے کے باعث ان سے بہت محبت تھی۔مرزا صاحب کی علمی لیاقت سے کچہری والے آگاہ نہ تھے مگر چونکہ اسی سال کے اوائل گرما میں ایک عرب نوجوان محمد صالح نام شہر میں وارد ہوئے اور ان پر جاسوسی کا شبہ ہوا تو ڈپٹی کمشنر صاحب نے (جن کا نام پر کسن تھا اور پھر وہ آخر میں کمشنر راولپنڈی کی کمشنری کے ہو گئے تھے ) محمد صالح کو اپنے محکمہ میں بغرض تفتیش حالات طلب کیا۔ترجمان کی ضرورت تھی۔مرزا صاحب چونکہ عربی میں کامل استعد ادرکھتے تھے اور عربی زبان میں تحریر و تقریر بخوبی کر سکتے تھے۔اس واسطے مرزا صاحب کو بلا کر حکم دیا کہ جو جو بات ہم کہیں عرب صاحب سے پوچھو۔اور جو جواب وہ دیں اردو میں ہمیں لکھواتے جاؤ۔مرزا صاحب نے اس کام کو كَمَا حَقَّهُ ادا کیا۔آپ کی لیاقت لوگوں پر منکشف ہوئی۔انگریزی کی طرف توجہ اس زمانہ میں مولوی الہی بخش صاحب کی سعی سے جو چیف محرر مدارس تھے (اب اس عہدہ کا نام ڈسٹرکٹ انسپکٹر مدارس مشہور ہے) کچہری کے ملازم منشیوں کے لئے ایک مدرسہ قائم ہوا کہ