حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 90 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 90

حیات احمد جلد اول حصہ اوّل ملازمت ان حالات میں مرزا غلام مرتضی صاحب قبلہ کو یہ خیال آیا کہ آپ کو سرکاری ملازمت میں داخل کرا دینا چاہئے۔شاید یہ میدان ان کے لئے ترقی کا میدان ہو۔اور حقیقت میں اگر مرزا صاحب کسی اور مقصد کے لئے پیدا نہ ہوئے ہوتے تو ان کی خاندانی وجاہت ان کا ذاتی چال چلن ایسی چیزیں تھیں جو انہیں ترقی کے بلند مینار پر لے جاتا۔حضرت مرزا صاحب سیالکوٹ میں جا کر اہلمد متفرقات کی آسامی پر ملازم ہوئے۔یہ ۱۸۶۸ ء تک کا واقعہ ہے۔آپ نے دوران ملازمت میں خدا تعالیٰ اور والد صاحب اور سر کا ر اور دیگر مخلوق کے حقوق و فرائض نہایت عمدگی سے ادا کئے۔دنیا کے تمام علاقوں میں سے سیالکوٹ کے علاقہ ہی کو یہ عزت حاصل ہوئی کہ آپ نے وہاں اپنی عمر کے چند سال بطور ایک اہلکار کے گزارے اور سیالکوٹ ہی ایک ایسا مقام ہے جس کو قادیان کے بعد آپ قادیان ہی کی طرح پسند فرماتے تھے۔چنانچہ سیالکوٹ میں جب آپ نے ۱۹۰۴ء میں لیکچر دیا تو اس میں فرمایا :۔میں وہی شخص ہوں جو براہین احمدیہ کے زمانہ سے تخمینا سات آٹھ سال پہلے اسی شہر میں قریباً سات برس رہ چکا تھا۔اور کسی کو مجھ سے تعلق نہ تھا اور نہ کوئی میرے حال سے واقف تھا۔پس اب سوچو اور غور کرو کہ میری کتاب براہین احمدیہ میں اس شہرت اور رجوع خلائق سے چوبیس سال پہلے میری نسبت ایسے وقت میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ جبکہ میں لوگوں کی نظر میں کسی حساب میں نہ تھا۔اگر چہ میں جیسا کہ میں نے بیان کیا براہین کی تالیف کے زمانہ کے قریب اسی شہر میں قریباً سات سال رہ چکا تاہم آپ صاحبوں میں ایسے لوگ کم ہوں گے جو مجھ سے واقفیت رکھتے ہوں۔کیونکہ میں اس وقت ایک گمنام آدمی تھا اور اَحَدٌ مِّنَ النَّاسِ تھا اور میری کوئی عظمت اور عزت لوگوں کی نگاہ میں نہ تھی مگر وہ زمانہ میرے لئے نہایت شیریں تھا کہ انجمن میں خلوت تھی۔: