حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 381
حیات احمد ۳۸۱ جلد اول حصہ سوم صاحبان مندرجہ عنوان مضمون ابطال تناسخ جو ذیل میں تحریر ہو گا۔کوئی صاحب ارباب فضل و کمال میں سے متصدی جواب ہوں۔اور اگر کوئی صاحب بھی باوجود اس قدر تاکید مزید کے اس طرف متوجہ نہیں ہوں گے اور دلائل ثبوت تناسخ کے فلسفہ متد عویہ دید سے پیش نہیں کریں گے۔یا درصورت عاری ہونے وید کے ان دلائل سے اپنی عقل سے جواب نہیں دیں گے تو ابطال تناسخ کی ہمیشہ کے لئے ان پر ڈگری ہو جائے گی۔اور نیز دعوئی و ید کا کہ گویا وہ تمام علوم وفنون پر متضمن ہے محض بے دلیل اور باطل ٹھہرے گا۔اور بالآخر بغرض توجہ دہانی یہ بھی گزارش ہے کہ میں نے جو قبل اس سے فروری ۱۸۷۸ء میں ایک اشتہار تعدادی پانسور و پیر بابطال مسئلہ تناسخ دیا تھا وہ اشتہار اب اس مضمون سے بھی بعینہ متعلق ہے۔اگر پنڈت کھڑک سنگھ صاحب یا اور کوئی صاحب ہمارے تمام دلائل کو نمبر وار جواب دلائل مندرجہ وید سے دے کر اپنی عقل سے توڑ دیں گے تو بلا شبہ رقم اشتہار کے مستحق ٹھہریں گے۔اور بالخصوص بخدمت پنڈت کھڑک سنگھ صاحب کہ جن کا یہ دعویٰ ہے کہ ہم پانچ منٹ میں جواب دے سکتے ہیں یہ گزارش ہے کہ اب اپنی اس استعداد علمی کو رو بروئے فضلائے نامدار ملت مسیحی اور برہمو سماج کے دکھلاویں۔اور جو جو کمالات ان کی ذات سامی میں پوشیدہ ہیں۔منصہ ظہور میں لاویں۔ورنہ عوام کا لانعام کے سامنے دم زنی کرنا صرف ایک لاف گزاف ہے اس سے زیادہ نہیں۔،، تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ ۸ تا ہے۔مجموعہ اشتہارات جلد ا صفحه ۱۴ ، ۱۵ بار دوم ) قیام قادیان میں شعر گوئی اگر چہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شاعری پر آپ کی سیرت میں ایک جدا باب ہو گا اور سوانح کی جلد اول میں آپ کے ایک مکتوب کے سلسلہ میں آپ کے تخلص فرسخ کی توضیح کرتے ہوئے آپ کے پرانے کلام میں سے کچھ شعر بھی دیئے ہیں۔لیکن اس موقع پر میں