حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 380
حیات احمد جلد اول حصہ سوم باقی ہے۔اور مسئلہ تناسخ میں مقابلہ وید اور قرآن کا بذریعہ کسی اخبار کے چاہتے ہیں۔سو بہت خوب ہم پہلے ہی تیار ہیں۔مضمون ابطال تناسخ جس کو ہم جلسہ عام میں گوش گزار پنڈت صاحب موصوف کر چکے ہیں۔وہ تمام مضمون دلائل اور براہین قرآنِ مجید سے لکھا گیا ہے اور جا بجا آیات قرآنی کا حوالہ ہے۔پنڈت صاحب پر لازم ہے کہ مضمون اپنا جو دلائل وید سے بمقابلہ مضمون ہمارے کے مرتب کیا ہو۔پر چہ سفیر ہند یا برادر ہند یا آریہ درپئن میں طبع کرا دیں۔پھر آپ ہی دانا لوگ دیکھ لیں گے۔اور بہتر ہے کہ ثالث اور منصف اس مباحثہ تنقیح فضیلت وید اور قرآن میں دو شریف اور فاضل آدمی مسیحی مذہب اور برہمو سماج سے جو فریقین کے مذہب سے بے تعلق ہیں مقرر کئے جائیں۔سو میری دانست میں ایک جناب پادری رجب علی صاحب جو خوب محقق مدقق ہیں۔اور دوسرے جناب پنڈت شیو نرائن صاحب جو برہمو سماج میں اہلِ علم اور صاحب نظر دقیق ہیں۔فیصلہ اس امر متنازعہ فیہ میں حکم بننے کے لئے بہت اولی اور انسب ہیں۔اس طور سے بحث کرنے میں حقیقت میں چار فائدے ہیں۔اول۔یہ کہ بحث تناسخ کی بہ تحقیق تمام فیصلہ پا جائے گی۔دوم۔اس موازنہ اور مقابلہ سے امتحان وید اور قرآن کا بخوبی ہو جائے گا۔اور بعد مقابلہ کے جو فرق اہلِ انصاف کی نظر میں ظاہر ہو گا۔وہی فرق قول فیصل متصور ہوگا۔سوم۔یہ فائدہ کہ اس التزام سے ناواقف لوگوں کو عقائد مندرجہ وید اور قرآن سے بکلی اطلاع ہو جائے گی۔چہارم۔یہ فائدہ کہ یہ بحث تناسخ کی کسی ایک شخص کی رائے خیال نہیں کی جائے گی۔بلکہ محوّل بکتاب ہو کر اور معتاد طریق سے انجام پکڑ کر قابل تشکیک اور تزئیف نہیں رہے گی۔اور اس بحث میں یہ کچھ ضرور نہیں کہ صرف پنڈت کھڑک سنگھ صاحب تحریر جواب کے لئے تنِ تنہا محنت اٹھا ئیں بلکہ میں عام اعلان دیتا ہوں کہ منجملہ