حیات شمس — Page 634
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 602 نے جامعہ احمد یہ ربوہ کے دس طالبعلموں کا انٹر ویولیا اور تین طالبعلموں کا انتخاب فرمایا جن کے نام یہ ہیں:۔(۱) سید عبدائی شاہ صاحب (۲)۔خاکسار سلطان محمود انور (۳) محمود احمد مختار صاحب ( کوٹلی آزاد کشمیر والے )۔تین طالبعلموں کا انتخاب ہونے کے بعد حضرت ملک سیف الرحمن صاحب کے مجوزہ پروگرام کے بارہ میں صدر انجمن احمدی کا یہ پروگرام تھا کہ بی طالبعلم اپنا علمی کورس مکمل کریں دو سال کے بعد پروگرام کی باقی شقیں علمی کورس پورا ہونے کے بعد زیر غور لائی جائیں گی۔اس انٹرویو میں ہم سے زیادہ سوالات پوچھنے والے حضرت مولانا شمس صاحب تھے انکی گفتگو، انکا علمی معیار اور سوال و جواب کے انداز انتہائی مہارت کا منظر پیش کرتے تھے۔خاکسار دو سال کا کورس پورا کرنے کے بعد نظارت اصلاح وارشاد میں حاضر ہو گیا اور جن دنوں میں حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس ناظر اصلاح و ارشاد کے منصب پر آئے ، خاکسار اس وقت گجرات ضلع کا مربی تھا۔تین چار سال بعد خاکسار کا وہاں سے باندھی ضلع نواب شاہ میں تقر ر ہو ا وہاں سال، سوا سال کام کیا تو ایک دن حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس ناظر اصلاح و ارشاد کی طرف سے میرے نام ٹیلی گرام موصول ہوئی کہ آپ کا باندھی سے میر پور خاص تقرر کیا جاتا ہے۔خاکسار میر پور خاص چلا گیا لیکن وہاں پر رہائش کا مناسب انتظام نہ ہونے کی بناء پر ربوہ پہنچا اور ساری صورتحال حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کے سامنے بیان کی۔حضرت مولانا شمس صاحب کو کسی ذریعہ سے اس تبادلہ پر یہ تاثر دیا گیا تھا کہ دو امراء صاحبان، حضرت صوفی محمد رفیع صاحب امیر جماعت سکھر اور حضرت ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب صدیقی امیر ضلع میر پورخاص کے باہمی مشورہ سے یہ تبادلہ کیا گیا ہے۔خاکسار نے میر پور خاص سے واپسی پر دفتر اصلاح و ارشاد میں حاضر ہوکر حالات پیش کئے کہ یہ دونوں امراء کے باہمی مشورہ سے طے ہوا تھا لیکن چونکہ میر پور خاص میں رہائش کا انتظام نہ ہو سکا اس لئے خاکسار کو یہ حکم ملا کہ آپ واپس ربوہ آجائیں اور میری تقرری منڈی بہاؤالدین میں کر دی گئی۔حضرت مولانا شمس صاحب کو اللہ تعالیٰ نے جہاں ذہنی بصیرت عطا کر رکھی تھی وہاں مربیان کے ساتھ شفقت محبت اور خیر خواہی کا انتہائی جذبہ تھا۔خاص طور پر جب کسی مربی کوکسی دقت یا مشکل کا سامنا ہوتا تو آپ خود بھی اس کی حالت کو پیش نظر رکھتے ہوئے مضطرب ہو جایا کرتے تھے اس سے غرض یہ تھی کہ مربی کو پریشانی سے محفوظ کیا جائے چنانچہ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ایک امیر جماعت سے میرا معاملہ ذرا بگڑ گیا اس کی وجہ یہ تھی کہ خاکسار خطبہ جمعہ دے رہا تھا اور امیر صاحب موصوف دو آدمیوں کے ساتھ گفتگو میں مصروف تھے۔خاکسار نے خطبہ میں ہی اس کا نوٹس لیا اور امیر صاحب کی اس روش پر اپنے سخت جذبات کا اظہار کیا۔اگلے روز خاکسارر بوہ حاضر ہوا اور حضرت مولانا شمس صاحب کے سامنے صورتحال بیان کر دی۔انہوں