حیات شمس — Page 633
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 601 لمبا عرصہ انہوں نے نظارت اشاعت کی ذمہ داریاں سنبھال لیں اور اس عرصہ میں آپ نے سیدنا حضرت مسیح موعود کی کتب کا ایک تاریخی معیار کے رنگ میں فریضہ ادا کیا۔سیدنا حضرت مسیح موعود کی 85 کے قریب کتب تھیں ان کتب کی اجتماعی اشاعت کے لئے آپ نے روحانی خزائن کے تحت 23 جلدوں میں ان کتب کو شائع کر دیا اور ہر کتاب کے ساتھ ایک انڈیکس تیار کیا اور یہ اسی تفصیلی انڈیکس ہے کہ کسی بھی مضمون یا حوالہ کی ضرورت ہو تو چند سیکنڈ میں انسان کو مطلوبہ موادل جاتا ہے۔یہ ایک غیر معمولی محنت اور کاوش تھی جس کی حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس نے سعادت پائی۔پھر ایک اعلیٰ پایہ کے مقرر کے طور پر مختلف میدانوں میں احمدیت کے علم کلام کا حق ادا کیا جس کے نتیجہ میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو "خالد احمدیت" کا مبارک خطاب عطا فرمایا۔حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک وقت ناظر اصلاح و ارشاد کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے تھے اور جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا 26 دسمبر 1961 ء کو وصال ہوا تھا تو حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کو ناظر اصلاح وارشاد کا عہدہ عطا ہوا۔خاکسار کو حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کے ساتھ تعارف کا پہلا موقعہ اس وقت نصیب ہو اجب 1956ء میں حضرت ملک سیف الرحمن صاحب مفتی سلسلہ نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشاد پر ایک پروگرام ترتیب دیا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشاد یہ تھا کہ ملک صاحب خود مفتی سلسلہ ہیں لیکن فرمایا کہ آپ اپنے جانشین تیار کریں اس پر حضرت ملک سیف الرحمن صاحب نے ایک تفصیلی منصو بہ تیار کر کے صدر انجمن احمدیہ میں پیش کیا جس کا ملخض یہ تھا کہ کم از کم جامعہ احمد یہ ربوہ کے تین طالبعلموں کو فقہ میں specialize کرنے کا موقعہ دیا جائے اور فقہ کا کورس مکمل کرنے کے بعد ان طالبعلموں کا انگریزی تعلیم کے لئے graduation کرایا جائے اور یہ کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ان کو عالمگیر سطح پر world tour پر بھجوایا جائے تاکہ انکی معلومات میں وسعت آجائے اور آخری شق یہ تھی کہ world tour کے بعد انکو نائب ناظر کا status دیا جائے خواہ کام ان سے جو بھی لینا ہو لیا جائے۔صدر انجمن احمدیہ نے طلباء کے انتخاب کے لئے ایک کمیٹی نامزد فرمائی جس میں حسب ذیل اراکین تھے :۔(۱)۔حضرت مولوی محمد دین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ (۲)۔حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال رضی اللہ تعالیٰ عنہ (۳)۔حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب در درضی اللہ تعالیٰ عنہ (۴)۔حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس رضی اللہ تعالیٰ عنہ (۵) مکرم چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ (نمائندہ تحریک جدید )۔اس کمیٹی