حیات شمس

by Other Authors

Page 635 of 748

حیات شمس — Page 635

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 603 نے مجھے تسلی دلائی اور فرمایا کہ آپ دو تین دن کے لئے ربوہ میں ٹھہریں۔اور اس دوران انہوں نے متعلقہ امیر صاحب کو ربوہ طلب کیا۔موصوف یہاں پہنچے اور دفتر میں پیش ہوئے تو حضرت مولانا شمس صاحب نے مجھے بھی دفتر میں طلب فرمایا اور امیر صاحب کے سامنے ساری صورتحال بیان فرمائی اور اُن سے رائے لی کہ کیا یہ اطلاع درست ہے؟ امیر صاحب نے فرمایا کہ ہاں اطلاع درست ہے۔اس پر حضرت مولانا شمس صاحب نے فرمایا کہ اگر یہ اطلاع درست ہے تو مربی کو اس سے زیادہ ایکشن لینا چاہئے تھا۔اس پر محترم امیر صاحب فوراً اپنی سیٹ سے اُٹھ کر مجھ سے بغلگیر ہو گئے اور بڑی فراخدلی کے ساتھ اپنی غلطی کا اقرار کرتے ہوئے مجھ سے محبت اور وفا کا عہد کیا۔حضرت مولا نائٹس صاحب کو بھی اس بات کا اطمینان ہو گیا اور معاملہ رفع دفع ہو گیا۔حضرت مولانا شمس صاحب کا معمول یہ تھا کہ بالعموم مجلس کی صورت میں ، سوائے ضرورت حقہ کے، اپنا قیمتی وقت ضائع نہیں کرتے تھے اور دینی علم پر ہر وقت اُنکی توجہ رہتی تھی۔حضرت مولانا شمس صاحب سے مختلف انداز سے استفادہ کا موقعہ ملتارہا جس کی تفصیل آئندہ انشاء اللہ کسی مضمون میں پیش کرونگا۔سر دست اختصار کو پیش نظر رکھتے ہوئے دو تین باتوں کا ذکر کر دیا ہے۔حضرت مولانا شمس صاحب کو اللہ تعالیٰ نے بڑا وسیع ظرف اور بے پناہ محبت اور شفقت کے کثیر انداز عطا فرمائے ہوئے تھے اور یہ ممکن نہ تھا کہ اُن کی مجلس اور صحبت میں بیٹھ کر انسان دینی علمی، اخلاقی اور روحانی برکات سے متمتع نہ ہو۔اللہ تعالیٰ اُن کی روح پر بے شمار رحمتوں برکتوں کو ہمیشہ نازل فرماتا رہے۔اور اُن کی محبت بھری اور مشفقانہ دعاؤں کے ثمرات ہم سب پر سایہ فگن رہیں۔آمین۔( تحریر محرہ تمبر 2010ء بنام مکرم منیر الدین صاحب شمس) جلیل الشان مہدی علیہ السلام کی تعلیم کے جلیل الشان وارث تاثرات مکرم چوہدری خورشید احمد سیال صاحب) میں خورشید عاجز بندۂ خدا کینسر یعنی "osteosarcoma" کی موذی مرض میں مبتلا ہوکر بڑے مصائب میں تھا اور یہ مصائب خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے مجھ پر ڈالے تھے۔اور میں ہر وقت اس خوف میں تھا کہ اب اس زندگی کا معاملہ بہت بگڑ جاویگا۔چنانچہ میں نے بڑی انکساری سے دعائیں کیں کہ خدا تعالیٰ مجھے اس گرنے کے وقت سنبھال لیوے۔اور تائید غیبی اس طریق کو سمجھا کہ حضرت اقدس مسیح موعود یہ السلام کے صحابہ کرام اور دیگر بزرگان کو دعا کی درخواست کروں۔چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا اور