حیات شمس — Page 533
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 501 میں مصروف عمل تھے، اس وقت بھی آپ کو خصوصاً الحکم کی قلمی اور علمی معانت کرنے کی توفیق ملتی رہی۔1924ء کا سال سلسلہ عالیم احمدیہ کی تاریخ میں ایک تاریخ ساز اور انقلاب انگیز سال تھا۔یہ وہ سال ہے جس میں سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ بلاد عربیہ و یورپ کو عازم سفر ہوئے اور کئی الہی نوشتے پیدا ہوئے۔آپ کی معیت میں احباب کرام کا جو قافلہ عازم سفر ہوا ان میں مؤرخ سلسلہ احمدیہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی الکبیر بھی شامل تھے۔حضرت شیخ صاحب کے فرزند حضرت شیخ محمود احمد صاحب عرفانی ان ایام میں بلاد مصر میں مہمات دینیہ میں مصروف کار تھے اس لئے ان کا آنا اور الحکم کی معاونت کرنا عملاً ناممکن تھا۔حضرت شمس صاحب میدانِ جہاد میں مصروفیت کی وجہ سے قادیان آکر الحکم کی معاونت سے عملاً قاصر تھے تاہم حضرت عرفانی الکبیر کے عرصہ غیوبت میں آپ نے الحکم کی علمی و قلمی معانت کی باوجود یکہ آپ کی میدان جہاد آگرہ میں غیر معمولی مصروفیات تھیں پھر بھی آپ نے غیر معمولی قلمی معانت فرمائی اور بار بار قادیان میں آکر احکم کی ادارت کرتے رہے۔اس دور کے الحکم قادیان کے کئی شمارے آپ ہی کے مرتب کردہ ہیں جیسا کہ 1924 ء کی فائل کے مطالعہ سے مترشح ہوتا ہے۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی مولانا صاحب کی معاونت کے بارہ میں تحریر کرتے ہیں : الحکم اور اس کے چلانے والے ہمیشہ اس امر پر بجا فخر کریں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کےعہد سعادت کی یادگار ہے۔الحکم کو خدا تعالیٰ نے یہ سعادت وعزت عطا کی کہ وہ آپ کے کلمات طیبات کا امین ہے۔اس کے ذریعہ ہزاروں مردوں نے دوبارہ زندگی حاصل کی اور بے شمار اندھے اور بہرے دیکھنے اور سننے لگے۔میں جب بھی اس کو یاد کرتا ہوں تو میرے ہر بن مو سے حمد الہی کا ایک ترانہ نکلتا ہے کہ اس نے میرے جیسے بیکس اور کسمپرس کو یہ شرف عطافرمایا ہے۔الحکم کی ان خدمات کا اظہار کرتے ہوئے عزیزی ٹھس نے اپنی خدمات کو پیش کیا۔میں نے الحکم میں اس قسم کے خطوط چھاپنے سے اکثر پر ہیز کیا ہے مگر میں اس خط کو محض ایک تاریخی حیثیت سے درج کرتا ہوں یہ شمس نے احکم کی قلمی خدمت کیلئے جو میری غیر حاضری میں عزم کیا ہے وہ بہت قابل قدر ہے اور میں اس کا اعتراف پچھلی اشاعت میں کر چکا ہوں۔اب مجھے ایسے احباب کی ضرورت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد سعادت کی اس یادگار کو میری غیر حاضری میں مالی مشکلات سے بچانے میں [ میرے ممد ہوں ]۔اس کیلئے صرف یہ