حیات شمس

by Other Authors

Page 534 of 748

حیات شمس — Page 534

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس چاہتا ہوں کہ تین سو انجمنیں ( یعنی جماعتیں ) اس کو خریدیں اور اس طرح پر انہیں یہ ابدی عزت نصیب ہوگی کہ وہ حضرت کے عہد سعادت کی یاد گار کو زندہ رکھنے والے تھے۔“ مکتوب مولا نا شمس صاحب عازم یورپ عرفاتی۔حضرت مولانا شمس صاحب حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ” خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ نے سلسلہ احمدیہ کی بہت سی خدمات سرانجام دی ہیں۔ان خدمات جلیلہ میں سے ایک عظیم الشان خدمت جو آپ نے کی وہ اخبار جاری کرنا تھا۔اخباری دنیا میں جو عزت و فضیلت اخبار الحکم اور اس کے ایڈیٹر کو حاصل ہے وہ کسی دوسرے اخبار اور ایڈیٹر کو بحیثیت ایڈیٹر ہونے کے حاصل نہیں ہوسکتی اور زمانہ کتنی ہی کروٹیں بدل لے مگر وہ رتبہ جو الحکم کو حضرت مسیح موعود کی زندگی کے ایام میں خدمت کرنے کا حاصل ہے کسی اور دوسرے اخبار کو حاصل نہیں ہو سکتا۔اخبار الحکم اس وقت جاری ہوا جب کہ حکم و عدل کی قائم کردہ جماعت کو ایک اخبار کی از حد ضرورت تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تازہ بتازہ وحی اور الہامات اور آپ کی زبان مبارک سے روزانہ جھڑنے والے پھول اور آپ کے قلم سے نکلنے والے چمکدار موتیوں کے لپکنے کے لئے افراد جماعت کی آنکھیں ترستی رہتی تھیں اور آپ کی مریضوں کو شفا دینے والی اور بے قرار دلوں کو تسکین دینے والی تقریریں، مریضوں اور مضطر بین کے پاس نہ پہنچنے کی وجہ سے ان کے دلوں کو اور زیادہ پریشان کرتی تھیں۔ایسی حالت میں اخبار الحکم کا جاری ہونا جماعت احمدیہ کے واسطے کوئی معمولی بات نہیں تھی بلکہ وہ ایک روح افزا اور زندگی بخشنے والی چیز تھی۔پس خدا تعالیٰ نے آپ کو توفیق دی کہ اخبار الحکم کے ذریعہ جماعت کی مناسب ضروریات کو پورا کریں۔وذالک فضل الله يوتيه من يشاء۔پس احمدی جماعت آپ کی اس خدمت جلیلہ کی تہہ دل سے شاکر ہے اور خدا تعالیٰ سے ہماری یہی دعا ہے کہ اے خدا جس طرح تو نے اپنے حکم و عدل کی طرف انوار شباب کولوٹا یا اسی دم ہمیں بھی وہ دن دکھا کہ ہم الحکم کو بھی اپنی پہلی آب و تاب سے نکلتا دیکھیں جس طرح کہ حکم و عدل کے زمانہ میں نکلتا تھا۔اب پھر خدا تعالیٰ نے آپ کو نہایت مبارک موقعہ خدمت کا عطا فر مایا 502