حیات شمس

by Other Authors

Page 631 of 748

حیات شمس — Page 631

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس مذہب وسائنس کا قیام عمل میں آیا۔599 نوٹ : فروری 1945ء میں سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے ” مجلس مذہب و سائنس کی تاسیس فرمائی جس کے صدر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے کو نامزد فرمایا جبکہ نائب صدر حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پر نسپل تعلیم الاسلام کالج قادیان مقرر ہوئے۔اس مجلس کا پہلا اجلاس 29 مارچ 1945ء کو مسجد اقصیٰ قادیان میں ہوا۔اس مجلس میں چوٹی کے علماء اپنے تحقیقی مقالات پیش کرتے۔مکرم ومحترم چوہدری محمد علی صاحب ایم اے نے 21 مئی 1945ء کے اجلاس میں اس مجلس میں اپنا مقالہ ” علم النفس کے جدید نظریئے پیش فرمایا۔] اس کے اجلاس عموماً مسجد مبارک ہی میں ہو ا کرتے تھے اور حضور انور ( نور اللہ مرقدہ ) بنفس نفیس صدارت فرمایا کرتے تھے۔تقاریر انگریزی میں ہوا کرتی تھیں اور حضور بھی نہایت شستہ اور رواں انگریزی میں صدارتی ریما کس دیا کرتے تھے۔مجلس مذہب و سائنس کے زیر اہتمام حضرت شمس صاحب کا لیکچر بھی ہوا۔اس پر حضور انور نے جو صدارتی ریماکس دیئے ان کا نشہ اب تک محسوس کرتا ہوں۔حضور نے نہایت شگفتہ انداز میں جو کچھ فرمایا اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ حضور کو اپنے اس روحانی جرنیل سے کتنی محبت ہے اور اس پر کتنا فخر ہے۔یہ غالبا1946ء کے اواخر کی بات ہے۔اس کے بعد 1947ء میں پاکستان کا قیام عمل میں آگیا۔اس کے ساتھ ہی کالج لاہور میں آگیا۔1948ء میں جماعت احمدیہ کے نئے مرکز کا قیام عمل میں آیا اور اس کا نام قرآن کریم میں مذکور لفظ کی مناسبت سے ربوہ رکھا گیا۔یہ حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب کا ہی تجویز کردہ ہے جسے حضور انور حضرت مصلح موعود ( نوراللہ مرقدہ ) نے منظور فرمایا۔انجمن کے دفاتر ربوہ شفٹ ہو گئے۔کالج ابھی لاہور ہی میں تھا۔ان دنوں حضرت شمس صاحب سے بار بار ملاقات کا شرف حاصل ہوتا رہا۔وہ چاہتے تو ہر احمدی کے گھر کے دروازے انکے قیام اور میزبانی کے شرف کیلئے چشم براہ تھے لیکن یہ شرف فضل عمر ہوٹل کو حاصل ہوا کہ آپ لاہور میں آتے تو عموماً ہوٹل ہی میں قیام فرماتے۔یہ ہوٹل کیا تھا کلاس رومز اور لائبریری کو کمروں میں تبدیل کر لیا ہوا تھا۔بائیالوجی لیبارٹری کے اوپر کے کمروں میں خاکسار رہتا تھا۔نیچے دفتر تھا ایک کلاس روم تھا اور چھوٹا سا کمرہ جس میں آپ قیام فرماتے۔ٹائلٹ کا کوئی ملحقہ انتظام نہیں تھا۔لوٹا اٹھا کر دور بیت الخلاء میں جانا پڑتا تھا۔اس ضمن میں قابل ذکر بات یہ ہے آپ صرف قیام فرماتے تھے نہ ناشتہ قبول فرماتے نہ کھانا۔اس پر ہم متعجب بھی ہوئے اور شرمندہ بھی۔قیاس کہتا ہے کہ آپ کھانا ناشتہ وغیرہ بازار سے کھاتے ہونگے۔ہم میں سے اکثر انجمن سے TADA بھی وصول کرتے