حیات شمس

by Other Authors

Page 630 of 748

حیات شمس — Page 630

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 598 ہے ان کے بچوں کو لندن بھجوا دیا جائے تو مناسب ہوگا۔وہ بتاتے تھے کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے یہ خط بغیر تبصرہ کے محترم شمس صاحب کو بھجوا دیا۔اس پر شمس صاحب نے مجھے بلا لیا اور سخت ناراض ہوئے کہ تمہیں یہ خط نہیں لکھنا چاہیئے تھا۔حضور سمجھیں گے کہ شاید میں نے تمہیں ایسا خط لکھنے کو کہا ہے۔سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے حضرت شمس صاحب کا نہایت قریبی تعلق تھا۔خاندان کے افراد اور خواتین بھی آپ کی خدمت میں دعا کیلئے خط لکھا کرتے تھے اور خلیفہ اسیح الثالث حضرت مرزا ناصر احمد صاحب سے ان کے خلیفہ منتخب ہونے سے پہلے بھی بہت عقیدت مندانہ تعلق تھا۔آپ کے خلیفہ منتخب ہونے کے بعد آپ نے ” بشارات ربانیہ“ کے نام سے وہ تمام رویاء اور کشوف اور سابقہ کتب کے حوالے جمع کئے تھے جن میں حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب کا نام صراحتاً آیا تھا۔یہ تصنیف اگر چہ مختصر تھی لیکن سعید فطرت احمدیوں کیلئے از دیا دایمان کا باعث تھی۔آپ کے اجداد وادی کشمیر کی تحصیل کو لگام کے علاقہ شمر میں بات جه هالن سے پنجاب آئے تھے۔حضرت شمس صاحب کو کبھی کشمیر اپنے گاؤں جانے کا موقعہ نہیں ملا۔روحانی جرنیل وو ( تاثرات محرر 2008ء) ( مکرم چوہدری محمد علی صاحب۔ایم اے۔وکیل التصنیف تحریک جدید۔ربوہ ) حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب سے خاکسار کی پہلی ملاقات ان کی لندن سے واپسی پر دار الضیافت قادیان میں ہوئی۔لندن جنگ کے دوران ان کی بہادرانہ مساعی کے متعلق بہت کچھ سنا ہوا تھا دیکھنے کا موقع اب ملا۔حضرت سید مختار احمد صاحب شاہجہانپوری دارالضیافت کے ایک کمرہ میں مقیم تھے۔وہیں ہم سب لوگ ان کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔جس تقریب کا ذکر کر رہا ہوں اس موقع پر حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب رحمہ اللہ بھی موجود تھے اور حضرت حافظ صاحب کو کسی کتاب یا مضمون کا مسودہ دکھا رہے تھے۔اس دوران میں حضرت حافظ صاحب نے حضرت شمس صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ میاں جب آپ ابھی نوجوان تھے اور سبزے کا آغاز تھا تو آپ نے بہاولپور کے مقدمہ میں جس تجر علمی اور مہارت سے جماعت کے موقف کو پیش کیا میں اس وقت بھی آپ کو علامہ کہتا تھا۔اس کے بعد ایک اور تقریب پیدا ہوگئی۔انہی دنوں سیدنا حضرت مصلح موعود ( نور اللہ مرقدہ ) کے ارشاد پر مجلس