حیات شمس — Page 632
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 600 ہیں اور ساتھ ساتھ مہمان نوازی سے بھی مستفیض ہوتے ہیں۔دیانت اور امانت کا یہ خاموش مظاہرہ ہمیشہ ہی یاد آنے پر حضرت مولوی صاحب کیلئے دل کو احترام اور محبت کے جذبات سے گرمادیتا ہے۔کالج میں جلسہ ہائے تقسیم اسناد کے مواقع پر خطبہ تقسیم اسناد کیلئے ملکی سطح پر معروف مشاہیر کو دعوت دی جاتی تھی۔مثلاً وزیر تعلیم سردار عبدالحمید دستی، وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی میاں افضل حسین صاحب وغیرہ۔ایک مرتبہ فیصلہ ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں سے کسی ایک کو دعوت دی جائے۔دو بزرگوں نے تو اپنی انتہائی کسر نفسی اور انکسار کے باعث معذرت کر دی۔حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاہجہانپوری نور اللہ مرقدہ اس شرط پر آمادہ ہوئے کہ ان کا لکھا ہو ا خطبہ تقسیم اسناد وہ خود نہیں بلکہ مولانا جلال الدین شمس صاحب پڑھیں۔چنانچہ ایسا ہی ہوا حضرت شمس صاحب نے وہ بابرکت اور پر حکمت خطبہ نہایت پر تاثیر جوش و جذبہ کے ساتھ پڑھا۔اس کے علاوہ بھی متعدد بار کالج میں تشریف لائے اور طلباء اور اساتذہ کو اپنے حکمت اور معرفت سے لبریز خطابات سے نوازا۔اللہ تعالیٰ کے حضور دعا ہے اللہ تعالیٰ ان قربانیوں کا ان کو بہترین اجر عطا فرمادے اور ان کی آل اولاد پر اپنا فضل فرما دے۔ان کے فرزند مولانا منیر الدین شمس صاحب ماشاء اللہ واقف زندگی ہیں اور لندن میں ایڈیشنل وکیل التصنیف ہیں اور متعدد حیثیتوں میں سلسلہ عالیہ احمدیہ کی خدمت بجا لا رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو اور ان کے تمام افراد خاندان کو اپنی خاص حفظ وامان میں رکھے اور اپنے عظیم باپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دیتار ہے اور دین و دنیا کی نعماء سے نوازے۔آمین“۔دینی علمی ، اخلاقی اور روحانی برکات سے پُر وجود تاثرات محررہ دسمبر 2006ء) محترم مولانا سلطان محمود انور صاحب۔ناظر خدمت درویشان) جماعت احمدیہ کی تاریخ میں حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کو ایک غیر معمولی شہرت و اہمیت حاصل ہے جو محض اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے سائے میں ہر طرح خدمات بجالانے کی سعادت پائی تھی۔بیرون ملک پیغام حق پہنچانے کے لئے ایک بے مثال کردار کے وہ مالک تھے۔مرکز ربوہ میں جہاں ایک عالم کے طور پر اُن کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی مسجد مبارک ربوہ میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشاد پر جمعہ کا خطبہ دینے کی اُنہیں سعادت ملتی رہی۔پھر ایک