حیات شمس — Page 18
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 18 جمال احمد صاحب اور حضرت مولانا شمس صاحب جلسہ وسوال جواب کی غرض سے ڈیریانوالہ تشریف لے گئے۔جہاں غیر از جماعت مولویان پیر جماعت علی شاہ ،مولوی ثناء اللہ امرتسری اور مولوی ابراہیم سیالکوٹی وغیرہ آئے ہوئے تھے۔کچھ دن پہلے اس گاؤں میں ڈیڑھ سو احباب سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے تھے۔الفضل قادیان 16 ستمبر 1919 ء صفحہ 1) اکتوبر میں آپ بغرض تبلیغ پٹیالہ تشریف لے گئے۔(الفضل قادیان کیکم نومبر 1919 ءصفحہ 1) 28دسمبر 1919ء آپ نے الحکم قادیان کیلئے سب سے پہلا مضمون بعنوان ” حضرت مسیح موعود کی صداقت اور شورش کے وقت جماعت احمدیہ کی اطاعت تحریر کیا۔نس کا لقب حضرت مولانائٹس صاحب کی رسالہ تخیز الاذہان اور بعد ازاں ریویو آف ریلیجنز سے وابستگی طالب علمی کے زمانہ ہی سے شروع ہو گئی تھی۔حضرت قاضی ظہور الدین صاحب اکمل 1914ء سے 1922ء تک تفخیذ الاذہان کے ایڈیٹر رہے۔تفخیذ الاذہان اس زمانہ میں ایک علمی وتحقیقی رسالہ ہوا کرتا تھا۔یہی وہ دور تھا جس میں مولانا شمس صاحب کو شمس کا خطاب دیا گیا۔آپ کیلئے شمس کا خطاب حضرت قاضی ظہور الدین صاحب اکمل نے پسند کیا۔اس خطاب سے قبل آپ کے نام کے ساتھ فاضل سیکھوانی یا خواجہ جلال الدین لکھا جاتا رہا۔اس بارہ میں مولانا علی محمد صاحب اجمیری ( سابق ایڈیٹر ریویو آف ریلیجنن) تحریر کرتے ہیں : ریویو کے ساتھ مولوی صاحب کی وابستگی اس وقت سے ہے جب کہ ابھی وہ پورے مبلغ نہیں بنے تھے، بلکہ تعلیم حاصل کر رہے تھے اور رسالہ ( تشحیذ الاذہان ) کی ادارت جناب قاضی ظہور الدین صاحب اکمل کے ہاتھ میں تھی۔تشخید الاذہان کے بعد اسی رسالہ میں ان کی تحریری زندگی کی ابتداء محترم قاضی صاحب کی زیر تربیت ہوئی تھی اور شمس کا لقب انہیں قاضی صاحب موصوف ہی نے رسالہ شھید میں دیا تھا۔جواب ریویو میں شامل ہے۔“ ریویو آف ریجنز اردو، نومبر 1936 ، صفحہ 9)