حیات شمس — Page 17
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس +1918 +1919 17 دسمبر 1918ء میں آپ نے ضلع فیروز پور کے مواضعات شیخ عماد حسین خانوالہ، چوڑہ، کھڈیاں، اٹاری اور نوچند وغیرہ مقامات پر تبلیغ احمدیت کی۔احمدی احباب سے چندہ وصول کیا۔ٹریکٹ اور اشتہارات تقسیم کئے نیز بعض مقامات پر خاص طور پر جلسوں میں وعظ کیا اور مخالفین سے مباحثے بھی کئے۔بارہ افراد سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔(الفضل قادیان 28 دسمبر 1918ء) آغاز جنوری میں آپ موضع و نجواں میں تشریف لے گئے جہاں آپ نے اردو میں تقریر کی۔الفضل قادیان 21 جنوری 1919 ، صفحہ 1) 1919ء میں مدرسہ احمدیہ قادیان کے طلباء میں سے دو طالبعلم یعنی حضرت مولوی جلال الدین سیکھوائی اور حضرت مولوی عبد السلام کنکی مولوی فاضل کے امتحان میں شامل ہوئے اور دونوں ہی اچھے نمبروں سے پاس ہوئے۔اسی طرح آپ نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے مولوی فاضل کا الفضل 24 مئی 1919ء اور 17 نومبر 1966 ، صفحہ 5) ڈپلومہ حاصل کیا۔تالیف و اشاعت سید نا حضرت خلیفہ المی الثانی رضی اللہ عنہ نے 1919ء میں صدر انجمن احمد یہ میں نظارتوں کا الفضل قادیان یکم اپریل 1919 ءصفحہ 7-8 ) قیام فرمایا۔انہی نظارتوں میں نظارت تالیف واشاعت کا قیام بھی عمل آیا جہاں مولا نائٹس صاحب کو علمی کام کرنے کا موقعہ ملا۔اس وقت حضرت مولوی فضل الدین صاحب ،حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب حلالپوری اور حضرت قاضی ظہور الدین اکمل صاحب کی طرف سے جوابی مضامین کی تحریک ہوتی رہتی تھی۔اس صحبت کے باعث حضرت شمس صاحب بڑے مضمون نگار بن گئے اور آپ کی کنیت ابو الثناء سے تفخیذ الاذہان اور اخبار فاروق میں مضامین شائع ہونے لگے۔ڈیریا نوالہ ضلع سیالکوٹ میں ماہ ستمبر میں حضرت حافظ روشن علی صاحب ، حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی ، حضرت حافظ