حیات شمس — Page 433
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 417 کر رہے ہیں اور پکار رہے ہیں کہ کوئی ایسا دین ہو جس میں انسان کے ہر شعبہ زندگی کے متعلق مکمل تعلیم پائی جاتی ہو۔لیکن تکبر، مال، غرور اور تعصب ایسی چیزیں ہیں جو اس کامل دین کے قبول کرنے میں ان کے لئے روک بنی ہوئی ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ نے اس خواب میں بشارت دی ہے کہ ایک وقت آئے گا جب کہ لوگ جو دنیا کیلئے دیوانے ہو رہے ہیں آخر کا ر اسلام قبول کر لیں گے۔لیکن ایک اور طبقہ جو انہیں کے رنگ کا ہوگا نہیں مانے گا اور اس راستہ میں جن مشکلات اور مصائب کا سامنا تھا وہ ظاہر وباہر تھا کیونکہ یورپ جیسے مادہ پرست ملک کیلئے تبلیغ کا انتظام اور مجاہدین کا تیار کرنا پھر ان کے اخراجات وغیرہ مہیا کرنا کوئی معمولی بات نہ تھی اس لئے خدا تعالیٰ نے بذریعہ الہام حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ذریعہ اپنے ساتھ والے شخص کو تسلی دی کہ تو مت ڈر خدا ہمارے ساتھ ہے۔وہ اپنے فضل سے اس کیلئے سامان عطا فرمائے گا۔۔۔۔۔۔الفضل قادیان 13 مارچ 1946ء) ان نو مجاہدین میں مندرجہ ذیل احباب شامل تھے جنہیں 18 دسمبر 1945ء کو قادیان سے سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اور تمام احباب جماعت کی دعاؤں کی معیت میں انگلستان اور مغربی افریقہ کیلئے رخصت کیا گیا: 1 2 3 4 5 6 7 8 9 مکرم مولا نا چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ مکرم حافظ قدرت اللہ صاحب مولوی فاضل مکرم ملک عطاء الرحمن صاحب ( مبلغ فرانس ) مکرم چوہدری اللہ دتہ صاحب مولوی فاضل مکرم مولا نا چوہدری کرم الہی صاحب ظفر مکرم چوہدری محمد اسحاق صاحب ساقی مولوی فاضل مکرم مولوی محمد عثمان صاحب مولوی فاضل مکرم ماسٹر محمد ابراہیم صاحب مکرم مولوی غلام احمد صاحب بشیر مولوی فاضل الفضل قادیان 19 دسمبر 1945ء)