حیات شمس — Page 434
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس نئے مجاہدین کی وجہ سے تبلیغ میں وسعت 418 حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس انچارج تبلیغ لنڈن اپنے تازہ خط میں تحریر فرماتے ہیں : پروفیسر ہیورٹ ڈن لنڈن یونیورسٹی کے اور کمینٹل سکول میں عربی زبان کے پروفیسر ہیں۔مصر اور دیگر عربی ممالک میں پندرہ بیس سال رہ چکے ہیں۔شیخ ناصر احمد صاحب نے انہیں مسجد آنے کیلئے دعوت دی۔چنانچہ پانچ دسمبر کو وہ اپنے اس طالب علموں سمیت جو مختلف ممالک کے تھے تشریف لائے۔انہیں مسجد دکھائی گئی اور مسجد کے متعلق معلومات بہم پہنچائی گئیں۔پروفیسر ہیورٹ نے دریافت کیا کہ مسجد دو کنگ اور یہ مسجد احمد یہ جماعت نے ہی بنائی ہیں؟ میں نے کہا تفصیلی حالات ملاقات کے کمرہ میں عرض کروں گا۔ہم مسجد سے وزٹنگ روم میں آگئے اور میں نے آدھ گھنٹہ میں خواجہ کمال الدین صاحب کے یہاں آنے اور مسجد دو کنگ کے حالات بیان کر کے مسیح کی آمد ثانی کے متعلق پیشگوئی اور اس کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وجود میں پورا ہونا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض پیشگوئیاں اور حضرت خلیفہ اول اور ثانی کا ذکر کیا۔مرد و عورت کے حقوق مسجد میں آنے والے طالب علموں کا ذکر کرتے ہوئے جناب مولوی صاحب موصوف لکھتے ہیں : بعض طالب علموں کے سوال پر مرد و عورت کے حقوق پر بحث شروع ہوگئی۔میں نے نئے عہد نامہ سے عورتوں کے حقوق کے متعلق حوالے بیان کئے کہ مرد عورت کا سر ہے اور اسے چرچ میں سوال تک پوچھنے کی اجازت نہیں اور نہ ہی وہ کسی کو تعلیم دے سکتی ہے۔ان حوالہ جات کو سنکر ایک لڑکی نے جو امریکن تھی کہا کیا یہ انجیل میں ہے جس کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ہماری ہے۔انہوں نے اور بھی سوالات کئے جن کے جوابات دیئے۔ہمیں طالب علموں میں سے دولڑ کیاں تھیں۔جب واپس جانے لگے تو ایک لڑکی نے مصافحہ کرنا چاہا میں نے مصافحہ نہ کیا اس پر مساوات کا سوال اٹھا۔میں نے انہیں حیفا کا اپنا واقعہ سنایا۔جن دنوں میں حیفا میں مقیم تھا وہاں ایک امریکن مشنری پہنچا میں اس سے ملنے کیلئے گیا اس کی بیوی بھی اس کے ساتھ تھی اس کے ہاتھ بڑھانے پر میں نے مصافحہ نہ کیا۔کچھ دیر کے بعد دوران گفتگو میں اس مشنری نے کہا کہ اسلام عورت کومرد کی طرح مساوی حقوق نہیں دیتا کیونکہ آپ نے مجھ سے تو مصافحہ کیا لیکن میری بیوی سے نہیں کیا۔میں نے کہا اسلام نے اس