حیات شمس

by Other Authors

Page 152 of 748

حیات شمس — Page 152

۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 152 کے لئے ان کے ہاں پہنچ جاتے۔مجھے ان کی اس جرات کے متعلق کوئی لفظ تو نہیں ملتا مگر عام لوگ اسے ڈھٹائی بلکہ بے حیائی کہیں گے کہ عجیب لوگ ہیں۔صبح کو اس گھر پر گولے برس رہے تھے لوٹ مار ہورہی تھی اور شام کو یہ آکر کہتے ہیں ہماری تبلیغ سن لو۔ایسے لوگوں کو تبلیغ کرنے کا اندازہ اس مثال سے ہو سکتا ہے کہ کسی کے ہاں کوئی مر گیا ہو گھر والے اس کو دفن کرنے کے لئے لے جانے لگے ہوں۔وہ اس کا جنازہ اٹھانے کو ہی ہوں کہ ایک مبلغ وہاں پہنچ جائے اور ان کا ہاتھ پکڑے کہ میری باتیں سن لو حضرت مسیح موعود آگئے ہیں ان کو قبول کرو۔ایسی حالت میں ان لوگوں کے احساسات کا اندازہ کر لو جن سے یہ کہا جائے گا۔تو ایسے موقعہ پر تبلیغ کرنا اور بھی جرات اور دلیری کا کام ہے اس کے لئے ہمارے دونوں مبلغ قابل تعریف ہیں اور انہوں نے وہ کام کیا ہے جو ایسے حالات میں اور بہت سے لوگ نہ کر سکتے۔پھر میں سمجھتا ہوں ایسے موقعہ پر اپنے کام میں توازن قائم رکھنا بھی بہت مشکل کام ہے۔حکومت چاہتی ہے کہ اس سے ہمددری کی جائے اس کی حمایت کی جائے اور ثوار چاہتے ہیں ان کی حمایت کی جائے۔اور جب ایک وقت میں ایک فریق کی حکومت ہو جاتی ہے اور دوسرے وقت میں دوسرے کی تو ایسی حالت میں طرفین کو راضی رکھنا بہت مشکل کام ہے۔بسا اوقات ایک فریق کی طرف انسان اس قدر جھک جاتا ہے کہ دوسرے فریق والے ایک گولی سے اس کا کام تمام کر سکتے ہیں۔ہمارے مبلغین کا یہ بھی ایک کام اور خدمت ہے کہ انہوں نے فریقین میں توازن قائم رکھا اور ایسا رویہ اختیار کیا کہ نہ گورنمنٹ خلاف ہوئی اور نہ باغی مخالف ہوئے۔یفسی جرأت اور نفسی بہادری کی علامت ہے اور ساتھ ہی عقلمندی کی بھی مگر باوجود اس کے میں یہ کہوں گا کہ ہمارے مبلغین سے ایک غلطی بھی ہوئی ہے اور وہ یہ کہ ابتدائی دنوں میں انہوں نے ایسے لوگوں کو اپنے گرد اکٹھا ہونے دیا جوعلمی مشاغل رکھتے ہیں۔بحث و مباحثہ ان کا مشغلہ بن چکا تھا نہ کہ وہ کسی تحقیق حق کیلئے ایسا کرتے ہیں۔یہ لوگ مذہب کے راستہ میں سب سے بڑی روک ہوتے ہیں۔یہ روحانیت کے کیڑے ہوتے ہیں۔ان کے طرز عمل کو دیکھ کر بظاہر انسان یہ دھو کہ کھا جاتا ہے کہ علمی تحقیق کر رہے ہیں مگر دراصل یہ ان کی عادت ہوتی ہے اور جس طرح جب لکڑی کو گھن لگ جائے تو اس کے متعلق یہ نہیں کہا جا تا کہ آرہ کشوں کی طرح کاٹ رہا ہے کیونکہ گھن کی غرض تو اس لکڑی کو کھا جانا ہوتی