حیات شمس — Page 151
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 151 اس کے آنے کا ایک مقررہ وقت ہوتا ہے کہ فلاں وقت تک لوگ جاگ رہے ہوتے ہیں اس کے بعد آئے۔پھر وہ خیال کرتا ہے کہ ایسی جگہ جائے جہاں سے کچھیل سکے۔ان باتوں کی وجہ سے اس کا دائرہ عمل محدود ہوتا ہے مگر باغی کا چونکہ ایک ہی مقصد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا کرے تا کہ وہ حکومت سے بیزار ہو جائیں اور حکومت کا رعب مٹ جائے۔لوگ سمجھنے لگ جائیں کہ وہ ان کی جان ومال کی حفاظت نہیں کر سکتی۔ان کے مد نظر Terrorism ہوتا ہے، خطرہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔وہ کسی کی جان اس لئے نہیں لیتے کہ ان کا دشمن ہوتا ہے بلکہ وہ بسا اوقات دوست کو بھی مارتے ہیں تا کہ لوگوں کے دلوں میں یہ خیال بھی پیدا کرسکیں کہ حکومت اس کی حفاظت نہیں کر سکتی پھر ایسی حکومت کا کیوں ساتھ دیں۔ان حالات میں جو مشکلات ہمارے دمشق کے مبلغین کے راستہ میں تھیں ان کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ کثیر تعداد ایسے لوگوں کی ہوگی جو ایسے حالات میں ایسی جگہ ٹھہرنے کے لئے بھی تیار نہ ہوں گے، چہ جائیکہ کوئی کام کرے۔ہمارے دونوں مبلغ قابل تعریف ہیں چنانچہ جنگ کے زمانہ میں جبکہ ہزار ہا جہاز چلتے تھے اور ایک فیصدی سے زیادہ نہ ڈوبتے تھے اس وقت کسی مبلغ کو یورپ بھیجنے کے لئے تیار کیا جاتا تو اس کے رشتہ دار کہہ اٹھتے کہ ایسے خطرہ کے موقعہ پر کیوں بھیجا جاتا ہے حالانکہ خشکی کی لڑائی کے مقابلہ میں سمندر میں بہت کم خطرہ تھا اور کجایہ کہ عین جنگ میں کوئی شخص رہے۔ان مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارے شام کے مبلغین نے جو کام کیا وہ اس حد تک تعریف کے قابل ہے کہ انہوں نے تبلیغ کو جاری رکھا اور وقت کے خطرات کی وجہ سے ضائع نہیں کیا۔پہلی خوبی تو ان کی یہ ہے کہ انہوں نے حالات کے اس قدر خطر ناک ہو جانے پر یہ نہ کہا کہ میں تبلیغ کے لئے بھیجا گیا تھا نہ کہ میدان جنگ میں رہنے کے لئے ، اس لئے ہمیں واپس بلا لیا جائے۔یہی ان کی خوبی دین اور سلسلہ سے محبت کی دلیل ہے اور کئی ایک ایسے ہوتے جو کہہ اٹھتے کہ ہمیں جان کا خطرہ ہے ہمیں واپس بلا لومگر اس سے بھی بڑھ کر ان کی خوبی یہ تھی کہ صبح کسی کے گھر ڈاکہ پڑتا باغی مال و اسباب لوٹ کر اور اکثر اوقات قتل کر کے چلے جاتے اور شام کو ہمارے مبلغ اس گھر کے لوگوں کو تبلیغ کرنے