حیات شمس

by Other Authors

Page 153 of 748

حیات شمس — Page 153

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس ہے۔اسی طرح یہ لوگ بھی جو کام کر رہے ہوتے ہیں اس سے ان کی غرض حق کا حاصل کرنا نہیں ہوتی بلکہ اپنے شغل کو پورا کرنا ہوتا ہے۔میرے نزدیک ہمارے مبلغوں سے غلطی ہوئی کہ انہوں نے ایسے لوگوں کو اپنے گرد جمع ہونے دیا جن کے مشاغل یہی تھے کہ علمی بحثیں کرتے رہیں۔مذہب بدلنا نہ ان کی غرض تھی اور نہ اس کے لئے تیار ہو سکتے ہیں اور اگر بدلیں تو اسلئے کہ دیکھیں دنیا کیا کہتی ہے۔بعض طبائع ایسی ہوتی ہیں کہ ایک چیز کو خواہ مخواہ قبول کر لیتی ہیں تا کہ دنیا دشمن ہو جائے وہ کسی بات کو سنجیدگی سے قبول نہیں کرتے بلکہ اس لئے قبول کرتے ہیں کہ ان کو لڑائی میں مزا آتا ہے۔اب اگر لڑائی پیدا نہ ہو تو وہ قبول کر دہ بات کو چھوڑ کر کسی اور طرف چلے جائیں گے۔پھر بعض دفعہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ فلاں جماعت میں ایسے خاص فوائد حاصل ہو سکیں گے جن کی خاطر اپنے پہلے رویہ کو بدل دینا چاہیے۔ایسے لوگ اگر سلسلہ میں داخل بھی ہو جائیں تو قابل اعتبار نہیں ہوتے۔ایسے لوگوں کو ارد گرد جمع ہونے دینا اور ان میں مشغول ہوجانا غلطی تھی جس سے کام کو نقصان پہنچا۔جو لوگ فائدہ اٹھا سکتے اور پھر فائدہ پہنچا سکتے ہیں وہ پیشہ ور ہیں، تاجر ہیں، مزدور ہیں۔یعنی وہ لوگ جن کو روٹی کمانے سے اتنی فرصت نہیں ہوسکتی کہ علمی مشاغل میں پڑے رہیں۔وہ چونکہ اس بات کے عادی ہوتے ہیں کہ اچھا کھائیں اور اچھا پئیں اس لئے زیادہ وقت وہ کمانے میں خرچ کرتے ہیں۔ان کی یہ حالت نہیں ہوتی کہ کھانا کہیں سے کھالیں اور علمی باتوں میں پڑے رہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ اگر ہمارے مبلغ ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے تو کامیابی ہوتی یا نہ ہوتی۔ممکن ہے ان کو تبلیغ کا جو موقعہ ملاوہ اسی لئے ملا کہ ان کے ارد گرد جمگھٹا ہوتا رہا مگر بہر حال اس طبقہ کی طرف ابتداء میں توجہ نہیں ہوئی۔اس غلطی کا یہ نتیجہ ضرور ہوا کہ جن کو تبلیغ کی گئی ان میں سے بعض کے قلوب میں تبلیغ نے گہرا اثر نہ کیا اور جن پر اثر کیا وہ وہی لوگ ہیں جو جدھر کی ہوا ہو ادھر ہی جھک جاتے ہیں۔بہر حال مبلغین نے جو کچھ ہوسکتا تھا کیا۔اور اب مولوی جلال الدین صاحب جس خطرہ میں کام کر رہے ہیں اس کی وجہ سے جماعت کو ان کی قدر کرنی چاہئے۔کامیابی کے متعلق یہ غلط اندازہ ہے کہ وہاں کتنی جماعت پیدا ہوئی ہے یا یہ کہ وہاں سے کتنا چندہ آتا ہے۔میں بھی اس طرح اندازہ لگایا کرتا ہوں مگر ہر بات 153