حیات شمس — Page 148
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 148 مبلغین دمشق کے کام پرسید نا حضرت خلیفہ مسیح الثانی کار یو یو یویو حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ 1926ء میں دمشق سے واپس قادیان تشریف لائے۔طلبائے مدرسہ احمدیہ نے آپ کی خدمت میں سپاس نامہ پیش کیا۔حضرت شاہ صاحب نے تقریر میں ان کا شکریہ ادا کیا۔اس تقریب کے آخر میں سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے مبلغین دمشق حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب اور حضرت مولانا شمس صاحب کے کاموں پر اپنے خطاب میں ریویو فر مایا۔جس کے بعض حصے پیش ہیں۔حضرت مسیح موعود کی پیشگوئیاں پوری کرنے کیلئے شاہ صاحب اور شمس صاحب کو دمشق بھیجوانا مشق کے متعلق حضرت مسیح موعود کی ایسی پیشگوئیاں موجود ہیں اور خدا تعالیٰ نے اپنے ابتدائی کلام میں ایسے امور بیان فرمائے ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ دمشق آخری زمانہ میں ایک خاص کام انجام دے گا۔ان کاموں میں سے بعض کا وقت آ گیا ہے اور بعض کا آنے والا ہے اس وجہ سے دمشق کی طرف جس شوق سے ہماری نگاہ اٹھ سکتی ہے دوسرے اس کا اندازہ نہیں کر سکتے۔ان پیشگوئیوں میں سے بعض کو پورا کرنے اور بعض کے پورا کرانے کی تحریک کرنے کی غرض سے جب میں سفر یورپ پر گیا تو وہاں انہی پیشگوئیوں کو پورا کرنے کے لئے میں نے شاہ صاحب اور مولوی جلال الدین صاحب کو وہاں بھیجا۔ان کے جانے کے بعد جو مشق میں تغیرات ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ دمشق کے متعلق جو کچھ میں نے سمجھا وہ صحیح تھا کیونکہ خدا تعالیٰ کے فعل نے اس کی تصدیق کردی۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک