حیات شمس — Page 149
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس قوم جس پر خدا تعالیٰ کی طرف سے عذاب آئے وہ حق رکھتی ہے کہ خدا پر اعتراض کرے اگر اس کے پاس عذاب سے کوئی مبشر اور منذر نہ آیا ہو۔اس سے بیشک یہ استدلال ہوتا ہے کہ نبی کے آنے کے بغیر عذاب نہیں آسکتا۔لیکن اس سے ایک اور بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ اگر کسی قوم کے پاس مبشر پہنچ جائیں اور عذاب نازل نہ ہو تو معلوم ہوا خدا کے نزدیک ابھی وہ زمانہ نہیں آیا کہ اسے ہدایت قبول کرنے کی دعوت دی جائے۔دنیا کے تمام علاقے ایسے نہیں ہوتے کہ ایک ہی وقت میں سب کو مخاطب کیا جائے۔دنیا کے کئی حصے ایسے ہیں جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے تیرہ سو سال بعد نام پہنچا۔پس اگر کسی قوم میں مبشر پہنچیں مگر اس کے متعلق خدا تعالیٰ کا فعل ظاہر نہ ہوتو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ قوم ابھی انذار اور تبشیر کی مخاطب نہیں سمجھی گئی۔عام عذاب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے بعد دنیا میں رونما ہوئے وہ اس ملک میں بھی آسکتے ہیں جہاں آپ کا نام نہیں پہنچا مگر اس کے علاوہ خاص عذاب ہوتے ہیں۔دیکھو اگر جنگ کا اثر ساری دنیا پر پڑا تو ہندوستان بھی اس سے محفوظ نہ رہا۔اگر زلازل ساری دنیا پر آئے تو ہندوستان میں بھی آئے۔اگر انفلوئنز اساری دنیا میں پھیلا تو ہندوستان میں بھی پھیلا مگر باوجود اس کے ہندوستان پر علیحدہ عذاب بھی آئے کیونکہ دنیا کے علاوہ یہ سب سے پہلے مخاطب قوم سمجھی گئی۔شاہ صاحب اور مولوی جلال الدین صاحب کے جانے کے بعد دمشق پر جو عذاب آیاوہ بتاتا ہے کہ ہم نے جو عذاب کے متعلق سمجھا تھا کہ اس کے لئے اندار اور تبشیر کا وقت آگیا ہے وہ درست تھا۔اور میں وہاں گیا پھر یہ مبلغ بھیجے گئے اس کے بعد وہاں ایسا عذاب آیا کہ دشمن بھی اعتراف کر رہے ہیں کہ تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔یہ اعتراف خاص اہمیت رکھتا ہے۔جس طرح زلزلوں کے متعلق یہ اعتراف اہمیت رکھتا ہے کہ جتنے اور جیسے خطرناک زلزلے گذشتہ میں سال میں آئے ویسے پہلے اتنی مدت میں کبھی نہیں آئے۔دمشق پر جس قسم کا عذاب آیا اس کے متعلق کہتے ہیں اس قسم کے حالات کے ماتحت کسی جگہ بھی کبھی ایسا عذاب نہیں آیا کہ ایک ایسا شہر ہو جسے حفاظت کر نیوالے بھی مقدس سمجھتے ہوں اور اس پر حملے کرنے والے بھی مقدس قرار دیتے ہوں مگر باوجود اس کے اس شہر کو اس طرح تباہ و برباد کیا جائے یہ عذاب استثنائی صورت رکھتا ہے اور بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ 149