حیات شمس — Page 147
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 147 احمدی ہم کہتے ہیں جس شخص کو صلیب پر کہتے ہیں وہ بذاتہ مسیح تھا مگر صلیب پر نہ مرا بلکہ جس وقت صلیب سے اتارا گیا وہ غشی کی حالت میں تھے۔یعنی مشابة بالمقتول والمصلوب اور اس امر کو ہم انجیل سے ثابت کرتے ہیں کہ جب وہ صلیب سے اتارا گیا وہ بخشی کی حالت میں تھے اور اس امر کو ہم انجیل سے ثابت کرتے ہیں کہ جب وہ صلیب پر سے اتارا گیا وہ زندہ تھا مردہ نہ تھا۔معنی اس آیت کے یہ ہوئے کہ انہوں نے اسے نہ مقتول کیا اور نہ مصلوب لیکن وہ ان کے لئے مقتول و مصلوب کے مشابہ بنایا گیا۔مقتول ومصلوب نہ تھا مگر یہود نے یہ خیال کیا کہ وہ مر گیا ہے۔پھر خود یہود نے بھی اس کی موت میں شبہ کیا۔شیخ اگر مسیح ہی صلیب پر لٹکائے گئے تھے تو وہ مصلوب ہوئے۔پھر ماصلبوہ کیوں کہا۔احمدی اگر کوئی شخص کسی کو تلوار سے ضرب لگائے اور وہ نہ مرے تو کیا ہم اس کو مقتول کہیں گے۔شیخ حدیث میں وارد ہے کہ مسیح دمشق میں نازل ہوگا۔احمدی مواضع نزول میں اختلاف ہے۔ایک حدیث میں بیت المقدس ، دوسری میں دمشق ، تیسری میں معسکر المسلمین، چوتھی میں جبل افیق، پانچویں میں نہر اردن۔چھٹی میں جبل دقان ،ساتویں میں فج الروحاء شیخ اصح یہی ہے کہ دمشق میں اتریں گے۔احمدی اس لئے کہ جناب دمشق میں رہتے ہیں۔جو بیت المقدس میں رہتا ہے وہ کہے گا کہ بیت المقدس والی حدیث اصح ہے۔شیخ اچھا یہ ہے کہ آپ کی رائے ہے کہ وہ وفات پاگئے ہیں۔میری رائے یہ ہے کہ وہ زندہ ہیں۔احمدی آپ کی رائے بے بنیاد ہے اور میری رائے علی وجہ البصیرت اور من حیث الدلائل والبراہین یقینی طور پر صحیح ہے۔اس پر حاضرین نے کہا کہ شیخ صاحب آپ کوئی جواب نہیں دے سکتے۔ان کے دلائل معقولانہ منطقیانہ ہیں اور ان سے ثابت ہوتا ہے کہ میخ وفات پاگئے ہیں۔(الفضل قادیان 8 جون 1926ء)