حیات شمس — Page 116
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 116 بھی آئینہ ہیں۔ان میں غیر احمد یوں کو اپنی صورت اور احمدیوں کو اپنی شکل نظر آتی ہے۔اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے کہ بٹالہ کے لوگوں نے احمدیت کا پیغام سنا اور اپنی کمزوری کا احساس کیا۔(الفضل قادیان2 اپریل 1925ء) مباحث گجرات یہ مباحثہ 10 مئی 1925ء کو حضرت شمس صاحب اور مولوی محمد حسین کولو تارڑوی کے مابین اجرائے نبوت کے موضوع پر ہوا۔اس میں بھی جماعت احمدیہ کو نمایاں کامیابی ہوئی۔مناظرہ میں موجود گجرات کے پاس کے ایک گاؤں کے زمیندار نے مناظرہ ختم ہونے کے بعد اعلان کیا کہ میں احمدی ہوتا ہوں۔الحمد للہ کہ اس گاؤں میں احمدیت کا بیج بویا گیا۔الفضل قادیان 30/19 مئی 1925ء) مباحثہ جہلم یه تحریری و تقریری مباحثہ جہلم شہر کے احمدیوں اور عیسائیان شہر جہلم کے مابین ہوا۔جماعت احمد یہ جہلم کی نمائندگی حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس نے کی جبکہ عیسائیوں کی طرف سے پادری عبد الحق نے نمائندگی کی۔مباحثہ 12 تا 15 دسمبر 1932ء گرجا گھر جہلم میں منعقد ہوا جس کی تفصیل آئندہ صفحات میں تعارف کتب کے باب میں دی جا رہی ہے۔(مزید تفصیل کیلئے دیکھئے الفضل قادیان 14 اگست 1932ء) مناظرہ شملہ یہ مناظرہ 27 اگست 1933ء کو شملہ میں ہوا۔علامہ مولانا جلال الدین صاحب شمس نے وفات مسیح کے موضوع پر جبکہ ختم نبوت اور صداقت مسیح موعود کے موضوع پر مکرم مولوی محمد سلیم فاضل نے غیر احمدی علماء سے مناظرہ کیا۔احمدی مقررین کی تقریریں نہایت موثر اور طرز استدلال نہایت عام فہم تھا جس سے الفضل قادیان 3 ستمبر 1933 ، صفحہ 2) حاضرین بہت متاثر ہوئے۔بنگہ ضلع جالندھر میں مباحثہ ستمبر 1922ء کی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بنگہ میں پہلا مباحثہ ستمبر میں ہوا تھا جس میں مولانا موصوف شامل ہوئے۔الفضل اخبار نے لکھا: 9 ستمبر 1922ء کو مولوی جلال الدین صاحب، شمس، شیخ عبد الرحمن مصری اور مباشر فضل حسین صاحب ، بنگہ ضلع جالندھر مباحثہ کیلئے تشریف لے گئے (الفضل قادیان 11 ستمبر 1922ء)